Saturday, 17 January 2026 | Web Desk
امریکی ریاست منیسوٹاکےشہرمنیاپولس میں منگل کےروزامیگریشن اہلکاروں نےجس خاتون کوگھسیٹ کرگاڑی سےباہرنکالاان کابیان اورشناخت سامنےآگئے۔
سافٹ ویئرایکسپرٹ عالیہ رحمان کاتعلق بنگلادیش سےہےاوروہ معذورہیں ۔ عالیہ نےتشددکےواقعہ کےبعدبتایاکہ انہوں نےفیڈرل ایجنٹس کواپنی معذوری کےبارےمیں بتایا،اس کےباوجودانہیں گھسیٹ کرباہرنکالااوربدترین سلوک کانشانہ بنایاگیا۔
عالیہ رحمان کامزیدکہناتھاکہ وہ خوش قسمت ہیں کہ زندہ بچ گئیں کیونکہ ان کےسامنےچندروزپہلی انہی اہلکاروں کےہاتھوں رینی نکول نامی خاتون کےقتل کاواقعہ تھا۔عالیہ کےمطابق یہی وجہ ہےکہ انہوں نےاہلکاروں کی مین ہینڈلنگ کےباوجودکوئی مزاحمت نہیں کی ۔
عالیہ نےبتایاکہ انہوں نےدوران حراست طبی معائنےکی درخواست کی لیکن ایسانہیں کیاگیا ۔ حراستی مرکزمیں وہ بےہوش ہوگئیں جس کےبعدانہیں ہسپتال پہنچایاگیا۔
یادرہےکہ فیڈرل ایجنٹس نےجہاں عالیہ رحمان کوپکڑا،اس جگہ سےمحض چندفرلانگ دوررینی نکول نامی خاتون کوبغیروجہ کےامیگریشن اہلکاروں نےگولیاں مارکرقتل کردیاتھا۔۔
امریکی میڈیا کےمطابق 7 جنوری کو ماری گئی خاتون رینی نکول گڈ کے سینے، بازو اور سر میں گولیاں لگیں۔ دو گولیاں سینے میں دائیں جانب اور ایک گولی بائیں بازو میں لگی۔ موقع پر پہنچنے والے طبی عملے کا کہنا ہےابتدائی معائنے میں ہی پتہ چل گیا کہ رینی گڈ کی سانس ڈوب چکی ہے۔
امریکامیں بسنےکاخواب دیکھنےوالوں کیلئےبری خبر
خیال رہے کہ امریکا میں 37 سالہ رینی نکول گُڈ پر منیاپولس میں ہونے والی جان لیوا فائرنگ کےبعدملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔