Tuesday, 9 September 2025 | Web Desk
اسرائیل کاقطرکےدارالحکومت دوحہ میں حملہ ۔ حماس کی قیادت کونشانہ بنانےکی کوشش کی جوکچھ میڈیاذرائع کےمطابق ناکامی سےدوچارہوئی ۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حملےقطر کے ان علاقوں میں ہوئے جہاں مبینہ طور پر حماس کا دفتر واقع ہے اورحماس رہنما مقیم ہیں۔
ایک غیر معروف عرب میڈیا کاکہناہےکہ حملے میں حماس کے رہنما خلیل الحیا شہید ہوگئے جو غزہ مذاکرات میں حماس ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ حماس ذرائع کےمطابق، اسرائیل نے اُس اجلاس پر حملہ کیا جس میں ٹاپ لیڈر شپ غزہ جنگ بندی پر امریکی تجویز کا جائزہ لے رہی تھی۔
حماس ذرائع کاکہناہےاسرائیل کا یہ حملہ ناکام رہا اور ہمارے تمام رہنما محفوظ ہیں۔ تاہم اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے لکھا کہ حماس رہنما خالد مشعل اس اجلاس میں موجود نہیں تھے اور انھیں ہدف نہیں بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج نےانتہائی ڈھٹائی سےاعلان کیاہےکہ اس نے دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایاجن میں نمایاں طور پر حماس کے غزہ کے سربراہ خلیل الحیہ شامل ہیں۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق فوج اور شاباک نے فضائیہ کے ذریعے انتہائی مہارت کے ساتھ یہ حملہ کیا۔
إسرائيل تعلن قصف مقر لقيادات حماس أثناء مناقشة مقترح وقف النار في #الدوحة#العربية pic.twitter.com/pkrgAFGC2a
— العربية (@AlArabiya) September 9, 2025
اسرائیل کاکہناہےاس نےحماس کی اس قیادت نشانہ بنایاجو کئی برسوں سے حماس کی سرگرمیوں کی براہِ راست قیادت کر رہی تھی، اور جو اسرائیل کے خلاف جنگ کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔
حماس اوراسرائیل کےدرمیان ثالث کاکرداراداکرنےوالےمرکزی ملک قطرنےاسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اوراسے بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلاخلاف ورزی قراردیا۔ سیکیورٹی اداروں، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ حکام نے فوری طور پر واقعے سے نمٹنے، اس کے اثرات محدود کرنے اور شہریوں و اردگرد کے علاقوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
قيادي بحماس يؤكد للعربية نجاة الوفد المفاوض #قطر #غزة #قناة_العربية pic.twitter.com/2IH8k8ING3
— العربية (@AlArabiya) September 9, 2025
اسرائیل کی غزہ میں بڑی تباہی پھیلانےکی تیاری
حماس ترجمان کاردعمل
حماس کے ترجمان سہیل الہندی نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے اُس عمارت کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ قیادت غزہ جنگ بندی پر امریکی تجویز پر مشاورت کر رہی تھی۔ تاہم حملے میں حماس کی پوری قیادت محفوظ رہی البتہ الخلیل الحیا کے صاحبزادے ھمام الحیا اور ان کے دفتر کے انچارج جہاد لبد سمیت 6 افراد شہید ہوگئے۔
اُن کے بقول شہید ہونے والوں میں حماس رہنماؤں کے محافظ اور ایک قطری اہلکار بھی شامل ہے۔