ویب ڈیسک: پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے پس منظر میں امریکی سفارتی کوششوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ معروف امریکی صحافی ایلینا ٹرینے کے مطابق، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں امریکی قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو براہِ راست فون کرکے انہیں کشیدگی میں اضافے کے ممکنہ خدشات سے آگاہ کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف بھی اس تمام تر صورتحال کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کر رہے تھے۔
صحافی کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح امریکہ کو ایک حساس انٹیلیجنس رپورٹ موصول ہوئی، جس کی نوعیت کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا گیا۔ اسی رپورٹ کی روشنی میں امریکہ نے پاک بھارت کشیدگی میں اپنی سفارتی سرگرمیوں میں فوری اضافہ کیا۔
امریکی نائب صدر نے مودی پر زور دیا کہ وہ پاکستان سے براہِ راست رابطے اور کشیدگی کم کرنے کے متبادل راستوں پر غور کریں۔ وینس نے ایسی متبادل تجویز پیش کی جو پاکستان کے لیے بھی قابلِ قبول ہو سکتی تھی۔
اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ اور محکمہ خارجہ کے اہلکار رات بھر پاکستان اور بھارت کے حکام سے رابطے میں رہے تاکہ معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
صحافی ایلینا ٹرینے کے مطابق، اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدے کا مسودہ تیار نہیں کیا، تاہم دونوں ممالک کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں امریکہ کا کردار کلیدی رہا۔ امریکی حکام کے مطابق، نائب صدر وینس کی مودی سے ٹیلیفونک گفتگو اس بحران میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔