ویب ڈیسک: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پاکستان مخالف اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اعلان کیا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے پانی کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا، اور ایسے کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پہلگام واقعے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے سخت فیصلے
🇵🇰 پاکستان کا دو ٹوک پیغام
- پانی روکا گیا تو اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔
- سندھ طاس معاہدہ عالمی معاہدہ ہے، یکطرفہ معطلی ناممکن ہے۔
- پاکستان مکمل جواب دینے کے لیے تیار ہے، 2019 جیسا واضح ردعمل ہوگا۔
⚠️ سفارتی اور تجارتی تعلقات منجمد
- شملہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدے معطل۔
- واہگہ بارڈر مکمل بند، سرحد پار آمد و رفت معطل۔
- تمام تجارتی روابط اور فضائی حدود بھارت کے لیے بند۔
- بھارتی سفارتی عملہ 30 افراد تک محدود، دفاعی مشیر ناپسندیدہ شخصیت قرار۔
❌ ویزا منسوخ، واپسی کا حکم
- سکھ یاتریوں کے علاوہ تمام بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ۔
- 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت۔
- سارک ویزا اسکیم کے تحت جاری تمام ویزے بھی منسوخ۔
🛑 بھارتی اقدامات پر شدید مذمت
- بھارت کے سیاسی محرکات پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ رویے کی مذمت۔
- پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار۔
- بھارتی میڈیا کا جنگی جنون اور اقلیتوں پر ظلم کی شدید الفاظ میں مذمت۔
📢 بین الاقوامی برادری کو انتباہ
- بھارت کی غیرملکی سرزمین پر کارروائیوں کے ناقابل تردید شواہد دنیا کے سامنے۔
- کلبھوشن یادیو سمیت دیگر شواہد بھارت کے کردار کو بے نقاب کرتے ہیں۔
- بھارت اپنے داخلی مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے۔
💬 وزیردفاع خواجہ آصف کا دوٹوک بیان
- پہلگام حملہ بھارت کا اندرونی مسئلہ، پاکستان پر الزام تراشی ناقابل قبول۔
- بھارت عالمی معاہدوں کو پامال نہ کرے، پاکستان بھرپور جواب دے گا۔
آخر میں، کمیٹی نے کہا کہ بھارتی حکومت کا موجودہ طرزِ عمل دو قومی نظریے اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے خدشات کی سچائی کو واضح کرتا ہے، اور پاکستانی قوم اپنی خودمختاری اور وقار کے دفاع کے لیے متحد ہے۔