ویب ڈیسک: نجی حج آپریٹرز کی غفلت سے رواں سال حج سے محروم ہونے والے ہزاروں پاکستانیوں کے لیے امید کی کرن روشن ۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق 29 اپریل سے حج پروازوں کا آغاز ہو رہا ہے، تاہم نجی حج اسکیم کے تحت بیشتر ٹور آپریٹرز مقررہ وقت پر واجبات جمع نہ کرا سکے، جس کے باعث انہیں ویزا اور دیگر حج امور کی تکمیل میں دشواری کا سامنا ہے۔ نتیجتاً صرف 23,620 افراد حج پر جا سکیں گے جبکہ 67 ہزار سے زائد پاکستانی حج کی سعادت سے محروم رہ جائیں گے۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں حج 2025 کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کوٹہ رکھنے کے باوجود ہزاروں عازمین حج پر نہ جا سکے۔ کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر عطا الرحمان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دو ہزار سے کم کوٹہ رکھنے والی حج گروپ آرگنائزیشنز (HGOs) کو بند کر دیا گیا ہے اور 904 اداروں کو 45 بڑے حج کلسٹرز میں ضم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 14 فروری تک حج رقم کا 25 فیصد جمع کرانے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، اور صرف 13,620 افراد نے یہ شرط پوری کی۔ سعودی حکومت نے 48 گھنٹوں کے لیے پورٹل کھولا مگر ایچ جی اوز مطلوبہ رقم منتقل نہ کر سکیں۔
سیکرٹری کے مطابق نجی اسکیم کے تحت جمع شدہ رقوم صرف ڈی جی حج کے ذریعے سعودی کمپنیوں کو منتقل ہو سکتی ہیں، کیونکہ سعودی حکومت نے رقم کی منتقلی صرف سرکاری ذرائع سے مشروط کر رکھی ہے۔ کچھ ایچ جی اوز اس میں ناکام رہیں، جس کی وجہ سے ان کے عازمین محروم رہ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں سے 10 ہزار اضافی کوٹہ حاصل ہوا، مگر یہ ڈیٹا صرف ٹور آپریٹرز اور سعودی کمپنیوں کے درمیان رہا۔ سعودی حکومت نے شرط رکھی کہ جس کے اکاؤنٹ میں 14 ہزار ریال ہوں گے، اسی کو اجازت ملے گی۔
اجلاس میں ڈی جی حج مکہ عبدالوہاب نے آن لائن شرکت کی۔ رکن کمیٹی شگفتہ جمانی نے 67 ہزار عازمین کی محرومی کو متعلقہ حکام کی سنگین غفلت قرار دیا۔ چیئرمین ملک عامر ڈوگر نے سوال اٹھایا کہ 50 ملین ریال غلط اکاؤنٹ میں کیسے چلے گئے؟ ڈی جی حج نے جواب دیا کہ 600 ملین ریال جمع ہونا تھے، مگر یہ مکمل نہ ہو سکے۔
نمائندہ ہوپ نے بتایا کہ 17 دسمبر کو 50 ملین ریال غلطی سے اوپیک اکاؤنٹ میں چلے گئے، جن کی واپسی میں ایک ماہ لگا۔ وزارت مذہبی امور پر سرکاری اسکیم کو ترجیح دینے اور نجی اسکیم کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔
نمائندہ ہوپ کے مطابق سعودی ہدایات کے تحت جو جگہ بچتی ہے وہ پاکستانیوں کو دی جا سکتی ہے، اور ابھی بھی یہ جگہ دستیاب ہے اگر حکومت کوشش کرے۔
ڈی جی حج نے کہا کہ اس وقت معاملہ صرف وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کے مابین حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 700 ملین ریال سعودی عرب میں موجود ہیں، اور اب تک تقریباً ایک ارب ریال اکٹھے کیے جا چکے ہیں۔ ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں گئی رقم واپس آ سکتی ہے، تاہم کرایوں پر خرچ ہونے والی رقم کی واپسی غیر یقینی ہے۔
آخر میں چیئرمین کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ واضح طور پر بتایا جائے کہ سرکاری اور نجی اکاؤنٹس میں کتنی کتنی رقم موجود ہے۔
نجی ٹور آپریٹرز کو رقوم کی واپسی کا امکان
اسلام آباد میں وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج بحران پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو رقوم ضابطے کے تحت سعودی عرب بھیجی گئیں، ان کی واپسی نجی ٹور آپریٹرز کا حق ہے اور حکومت اس حق کی ادائیگی یقینی بنائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی حکام سے مسلسل رابطوں کے نتیجے میں پاکستان کو 10 ہزار اضافی کوٹہ دیا گیا، جو پاکستان اور سعودی عرب کے قریبی تعلقات کا مظہر ہے۔ معاملہ ڈپٹی وزیراعظم کی سطح تک پہنچ چکا ہے، جو اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
سردار یوسف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی رپورٹ کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے سرکاری اسکیم کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں پاکستانی عملہ مکمل طور پر مستعد ہے اور عازمین کو ہر ممکن سہولت دی جائے گی۔