ویب ڈیسک: امریکی محکمہ صحت نے اپنے 10 ہزار مستقل ملازمین کو برطرف کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 10 ہزار ملازمین پہلے ہی رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو چکے ہیں۔ ان نئی برطرفیوں کے بعد، محکمہ صحت کے مستقل ملازمین کی تعداد 82 ہزار سے کم ہو کر 62 ہزار رہ جائے گی۔
محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر تنظیمی تبدیلیاں بھی کی جا رہی ہیں، جن کے تحت:
- ادارے کی 28 شاخوں کو کم کرکے 15 کر دیا جائے گا۔
- علاقائی دفاتر کی تعداد 10 سے گھٹا کر 5 کر دی جائے گی۔
محکمہ صحت کے مطابق، ان اصلاحات سے سالانہ 1.8 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے۔
محکمہ صحت کے سیکرٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کا کہنا ہے کہ یہ صرف بیوروکریسی میں کمی کا عمل نہیں، بلکہ ادارے کو اس کے بنیادی مشن اور نئی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کا اقدام ہے۔ ان کے بقول، محکمہ اب کم لاگت میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کرے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق، جمعے سے ملازمین کو برطرفی کے نوٹس بھیجے جانے کا امکان ہے، جبکہ 27 مئی سے ان کی برطرفیاں نافذ کر دی جائیں گی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ بھی محکمہ تعلیم اور یو ایس ایڈ سمیت دیگر اداروں میں ہزاروں ملازمین کو فارغ کر چکی ہے۔