ویب ڈیسک: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر بلاول بھٹو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے کی تجویز پر عمل درآمد کروا لیتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اس میں شامل ہونے پر راضی کر لیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
جیونیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے، خواجہ آصف نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کو تعمیری سوچ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کا نقطہ نظر مثبت ہے، لیکن پی ٹی آئی کا طرز عمل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات 11 بجے تک پی ٹی آئی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے تیار تھی، لیکن اچانک انہوں نے شرکت سے انکار کر دیا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے نعرے "خان نہیں تو پاکستان نہیں” کو انہوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا۔
قومی سیاست اور قیادت پر تبصرہ
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ماضی میں ہمارے لیڈران بھی جیل گئے، لیکن ہماری حب الوطنی پر کبھی کوئی سوالیہ نشان نہیں لگا۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر موقف
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے، وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم رہیں اور کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو۔ تاہم، خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا مرکز افغانستان کی سرزمین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ ان حالات میں دونوں ممالک کو تعلقات بہتر بنانے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔