Home / سولرصارفین اضافی ٹیکس سےبچ گئے

سولرصارفین اضافی ٹیکس سےبچ گئے

Cabinet to reconsider solar net metering policy

ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نےپاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدےکوخوش آئندقراردیاہے۔ انہوں نے مخالفین کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگوں نے یہ دعوے کیے کہ منی بجٹ آئے گا، لیکن الحمدللہ ایسا نہیں ہوا۔

کابینہ اجلاس کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق، وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف امور زیر بحث آئے۔ اجلاس کا آغاز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی سے ہوا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ملک نے مہنگائی، دہشت گردی اور دیگر چیلنجز کا سامنا کیا، اور عوام نے ان مشکلات کو جواں مردی سے برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر قوم قربانیاں نہ دیتی تو آئی ایم ایف سے معاہدہ ممکن نہ ہوتا۔

وزیراعظم کی ٹیم کو مبارکباد
وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف معاہدے کی کامیابی پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر تجارت اور دیگر متعلقہ وزرا و اداروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے خاص طور پر آرمی چیف کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی معاہدے کی تکمیل میں کردار ادا کیا۔

ملکی معیشت میں بہتری کے اشارے
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں محصولات کی وصولی میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مہنگائی کی شرح میں تاریخی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں کھربوں روپے کے ٹیکس مقدمات کئی سالوں سے زیر التوا ہیں اور یہ وقت ہی بتائے گا کہ اس میں قصور عدالتوں کا ہے یا ایف بی آر کا۔ تاہم، حکومت نے ان مقدمات کو جلد نمٹانے کا عزم کیا ہے اور اب تک 34 ارب روپے قومی خزانے میں جمع ہو چکے ہیں۔

ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور شفافیت
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن پر کام تیزی سے جاری ہے، اور ٹیکس ٹربیونلز کی ہائرنگ کے لیے پروفیشنل چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور کارپوریٹ وکلا کو میرٹ پر لایا جا رہا ہے۔ یہ تمام بھرتیاں سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں بغیر کسی سفارش کے کی جا رہی ہیں۔

شوگر سیکٹر اور ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ شوگر سیکٹر میں سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ میں 12ارب روپے اضافی سیلز ٹیکس جمع ہوا ہے، اور سال کے آخر تک 60 ارب روپے اضافی ٹیکس کی توقع ہے۔

سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظرثانی
وفاقی کابینہ کے اعلامیے کے مطابق، سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز پر اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت کے بعد نظرثانی کی جائے گی۔ اجلاس میں آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر کے قرض معاہدے پر بریفنگ دی گئی اوربتایا گیاکہ 7 ارب ڈالر کے معاہدے کا پہلا جائزہ مکمل ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف نے گورننس میں بہتری کے حکومتی اقدامات کو سراہا ہے۔

دیگر اہم فیصلے

  • سی سی پی اے کو بیگاس سے بجلی پیداوار کے معاہدوں پر دستخط کی منظوری دی گئی۔
  • وسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ وجیلینس کمیشن ایکٹ 2025 کی اصولی منظوری دی گئی۔
  • اسلام آباد میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس آن سروسز اور ایف ڈی ای قوانین میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔
  • پرمننٹ فیکلٹی اور ریسرچرز کی آمدن پر ٹیکس ریبیٹ کی بحالی کے لیے انکم ٹیکس ترمیمی بل منظور کیا گیا۔
  • کابینہ نے کابینہ کمیٹی نجکاری کے 11 مارچ کے فیصلوں اور ای سی سی کے 13 اور 21 مارچ کے فیصلوں کی توثیق کی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کا فیصلہ
اعلامیے کے مطابق، وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فوائد بجلی صارفین تک منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

واضح رہے کہ 13 مارچ 2025 کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز میں ترامیم کی منظوری دی تھی، جس کے تحت سولر صارفین سے فی یونٹ بجلی 10 روپے میں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سولر نیٹ میٹرنگ اور مالی اثرات
وزارت خزانہ کے مطابق، 2024 کے اختتام تک سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد 2 لاکھ 83 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ گزشتہ سال حکومت نے ان صارفین کو 159 ارب روپے ادا کیے، اور اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو 2034 تک یہ بوجھ 4,240 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ 80 فیصد سولر نیٹ میٹرنگ صارفین نو بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

Lahore: tution center roof collapsed, 14 students die

لاہور: ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنےسے14بچےجاں بحق

Tuesday, 30 June 2026 | Monitoring Desk لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی …