Home / ایم جی موٹرزماحول دوست گاڑیاں بنائےگی

ایم جی موٹرزماحول دوست گاڑیاں بنائےگی

MG electric vehicles in Pakistan

ویب ڈیسک ۔۔ ایک ایسےوقت میں جب دنیابھرمیں آٹوانڈسٹری ماحول دوست "گرین ٹیکنالوجی”کی جانب شفٹ کررہی ہے،ایم جی موٹرزپاکستان نے ہائبرڈ، پلگ اِن ہائبرڈ اور مکمل طورپرالیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے کے منصوبوں پرکام تیزکردیاہے۔

ڈان اخبارکی رپورٹ کےمطابق ایم جی موٹرزآنےوالےبرسوں میں پاکستان میں ایسا واحد برانڈ بننے کا ارادہ رکھتی ہے جو ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز، پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز اور مکمل طور پر الیکٹرک وہیکلز متعارف کروائے گا۔

ایم جی موٹرزمیں مارکیٹنگ ڈویژن کے جنرل مینیجر سید آصف احمد نےلاہورمیں کمپنی پلانٹ کے دورے کے دوران بتایا کہ کمپنی 2024 میں 5 کروڑ چینی یوآن (تقریباً 70 لاکھ ڈالر) کی سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی طورپراسمبل شدہ پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز لانےکےمنصوبےپرکام کررہی ہے۔

ان کامزیدیہ بھی کہناتھاکہ ایم جی موٹرزحکومت کی جانب دیکھ رہی ہے کہ وہ الیکٹرانک وہیکل فرینڈلی پالیسی اپنائے۔ انہوں نےکہاکہ مضبوط پالیسی سپورٹ کے ساتھ ایم جی موٹرز پاکستان کے آٹو سیکٹرکونیو انرجی وہیکلزمیں تبدیل کرکےایندھن کے درآمدی بل کو کم کر سکتا ہے۔

سستےالیکٹرک سکوٹرکی لانچنگ

انہوں نےترکیہ اورسعودی عرب کی ٹوگ اورسیئرکمپنیوں کاحوالہ دیتےہوئےزوردیاکہ پاکستان کوبھی انرجی وہیکلز کو اپنانے میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ یادرہےکہ ٹوگ اورسیئرترکیہ اورسعودی عرب میں برقی گاڑیاں بنانےوالےپہلےبرانڈزہیں۔

مقامی طورپراسمبل شدہ ہائبرڈ گاڑیوں کی زیادہ قیمت کے بارے میں خدشات کے حوالے سے سید آصف احمد نے وضاحت کی کہ پاکستان میں ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں جنرل سیلز ٹیکس میں زیادہ چھوٹ حاصل ہے جوکہ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 8.5 فیصد اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 25 فیصد ہے۔

پاکستان میں بجلی بحران اورچارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی سے پیدا ہونے والے ممکنہ چیلنجوں پر بات کرتے ہوئے سید آصف احمد نےلینڈ لائن فونز سے سیل فونز اور اسمارٹ فونز پر منتقلی کاذکرکیا۔ انہوں نےکہاکہ ماحول دوست گاڑیاں آنے والے وقت میں سفر کے لیےلوگوں کا پہلا انتخاب بن جائیں گی۔

یہ بھی چیک کریں

PTA announces 180-day balance validity for prepaid mobile users

پری پیڈ موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد 180 دن مقرر

Friday, 28 August 2026 | Web Desk پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے …