Home / سندھ طاس معاہدہ کیوں اہم ہے؟

سندھ طاس معاہدہ کیوں اہم ہے؟

Important points of Indus Water Treaty

ویب ڈیسک: پاکستان اوربھارت کےدرمیان تاریخی سندھ طاس معاہدہ جسےانڈس واٹرٹریٹی بھی کہاجاتاہے۔ اس معاہدےکےچیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔

1۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اوربھارت کےدرمیان عالمی بنک کی ثالثی میں1960میں ہوا۔

2۔ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے کیا گیا۔

3۔ زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں کےپانی پرہے۔

4۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔

5۔سندھ طاس معاہدےکی ضرورت 1948میں پیش آئی۔

6۔1948میں بھارت نےپاکستان کےمشرقی دریاؤں کاپانی بندکردیا۔

7۔ 19ستمبر1960میں سندھ طاس معاہدہ طےپایا۔

8۔ سندھ طاس معاہدےکےتحت ہرسال168ملین ایکڑفٹ پانی کوپاکستان اوربھارت میں تقسیم کیاگیا۔

9۔ بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنےکی اجازت دی گئی۔

10۔بھارت کو محدود حد تک آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت بھی دی گئی۔

11۔بھارت نےاس شق کوپاکستان کےخلاف آبی جارحیت کیلئےاستعمال کیا۔

12۔ماضی میں کئی باربھارت پاکستانی دریاؤں پرپن بجلی کےمنصوبےشروع کرچکاہے۔

13۔دونوں ملکوں کےماہرین نےسلال ڈیم کاتنازع1978میں حل کیا۔

14۔ بگلیہارڈیم کاتنازع2007میں عالمی بینک کی مددسےحل کیاگیا۔

15۔ متنازع کشن گنگاپراجیکٹ2013میں عالمی ثالثی عدالت کی مددسےحل ہوا۔

16۔ سندھ طاس معاہدےکےتحت دونوں ملکوں کےواٹرکمشنرزکاسال میں ایک اجلاس لازمی ہے۔

17۔بھارتی ہٹ دھرمی کےباعث 3سال سےواٹرکمشنرزکااجلاس نہیں ہوسکا۔

18۔پاک بھارت واٹرکمشنرزکااجلاس آخری بارمارچ2022میں پاکستان میں ہوا۔

19۔سندھ طاس،پاکستان اوربھارت کےدرمیان دوطرفہ عالمی معاہدہ ہے۔

20۔قانونی طورپربھارت یکطرفہ طورپراسےختم نہیں کرسکتا۔

21۔معاہدےمیں کوئی تبدیلی دونوں ملکوں کی باہمی رضامندی سےہی ممکن ہے۔

22۔ سندھ طاس معاہدےکےتحت سندھ،جہلم اورچناب کوپاکستانی کنٹرول میں دیاگیا۔

23۔ معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا کنٹرول دیاگیا۔

یہ بھی چیک کریں

Lahore: tution center roof collapsed, 14 students die

لاہور: ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنےسے14بچےجاں بحق

Tuesday, 30 June 2026 | Monitoring Desk لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی …