ویب ڈیسک: پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن "بُنیان مرصوص” کی کامیاب تکمیل کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ آپریشن 10 مئی کو اختتام پذیر ہوا، جس کے ذریعے بھارت کی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 22 اپریل سے 10 مئی تک جاری رہنے والی جھڑپوں کو "معرکۂ حق” کا نام دیا گیا ہے، جو بھارت کی بزدلانہ کارروائیوں کے جواب میں شروع کیا گیا۔
معرکۂ حق: ظلم کے خلاف فیصلہ کن اقدام
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے 6 اور 7 مئی کی شب معصوم پاکستانی شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نشانہ بنایا۔ اس بزدلانہ جارحیت کے جواب میں "معرکۂ حق” کا آغاز کیا گیا تاکہ ان مظالم کا بدلہ لیا جا سکے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ قوم سے کیے گئے وعدے کو الحمدللہ پورا کیا گیا، اور اللہ رب العزت کے شکر گزار ہیں کہ ہمیں ظلم کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھانے کی توفیق ملی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ یہ آپریشن اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی روشنی میں انجام دیا گیا کہ ظلم کا جواب دینا اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے۔
قومی یکجہتی اورپیشہ ورانہ عسکری مہارت کی مثال
فوجی، افسران، پائلٹس، ملاح، سائنسدان، انجینئرز اور انفارمیشن وارفیئر کے مجاہدین سمیت ہر شعبے نے اس جنگ میں اپنی جرات، مہارت اور قربانی سے کامیابی ممکن بنائی۔
پاکستانی میڈیا، دفتر خارجہ اور سفارتی عملے نے بھی داخلی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مضبوطی سے اجاگر کیا، جبکہ سیاسی قیادت نے دفاع وطن پر یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔
دشمن کو کاری ضرب: زمینی، فضائی، بحری اور سائبر حملے
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 26 سے زائد اہم بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سرسا، بھُج، نالیا، آدم پور، بٹھنڈا، پٹھان کوٹ، سرینگر، ادھم پور، جموں کے فضائی اور عسکری اڈے شامل ہیں۔
10اور 80 بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، راجوڑی اور نوشہرہ میں دہشتگردی کے بھارتی مراکز، اور ایل او سی پر توپ خانوں و پوسٹوں کو تباہ کیا گیا۔
بھارت نے سفید جھنڈے بلند کیے اور جنگ بندی کی اپیل کی، جس سے پاکستانی ردعمل کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ڈرون اور سائبر میدان میں برتری
بھارتی ڈرونز کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا جواب پاک فوج نے مسلح ڈرونز کے ذریعے دیا، اور بھارت کے بڑے شہروں، بشمول نئی دہلی، کو پیغام پہنچا دیا کہ پاکستان ڈرون ٹیکنالوجی میں کسی سے پیچھے نہیں۔
سائبر محاذ پر بھی بھارت کے اہم فوجی نیٹ ورکس اور انفراسٹرکچر کو وقتی طور پر مفلوج کیا گیا، اور تمام کارروائیاں صرف اُن اہداف تک محدود رہیں جو براہ راست دہشتگردی میں ملوث تھے۔
مغربی محاذ پر بھی بھرپور دفاع
آپریشن کے دوران مشرقی سرحد پر دشمن سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھارتی پشت پناہی میں جاری دہشتگردی کو بھی کامیابی سے روکا گیا۔
"معرکۂ حق” قومی یکجہتی، عسکری ہم آہنگی، اور جدید جنگی حکمت عملی کی ایک شاندار مثال بن گیا، جس نے پاکستان کی خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا۔
دوٹوک پیغام: خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں
ترجمان پاک فوج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کا جواب ہمہ گیر، فوری اور فیصلہ کن ہو گا۔