ویب ڈیسک: پاکستان کے ہاتھوں حالیہ جنگی ناکامی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا قوم سے خطاب غیرمتاثرکن، مایوس کن اورمدافعانہ تھاجس سے عوامی اور عسکری مورال مزید کمزور ہوا۔
یہ خطاب بھارتی ٹیلی ویژن چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا، لیکن مودی اس میں کسی بھی واضح فتح کا دعویٰ نہ کر سکے۔ عالمی صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پہلے ہی بھارتی افواج کے جھوٹے بیانات کو بے نقاب کر دیا گیا تھا، جس کے باعث وزیراعظم مودی کو اپنی قوم کو مطمئن کرنے کے لیے کسی بھی ٹھوس ثبوت یا کامیابی کی مثال پیش کرنے میں ناکامی کا سامنا رہا۔
خطاب کے دوران وہ روایتی الزامات دہراتے رہے اور پاکستان پر الزام تراشی کے سوا کوئی قابلِ ذکر نکتہ پیش نہ کر سکے۔ بھارتی عوام اور میڈیا اس بات کے منتظر تھے کہ وزیراعظم پہلگام واقعے میں پاکستان کے مبینہ کردار سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد پیش کریں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
وزیراعظم مودی کے لب و لہجے میں وہ غرور اور اعتماد بھی نمایاں طور پر ماند پڑ چکا تھا جو ماضی میں ان کے بیانات کا خاصہ رہا ہے۔ اس بار صرف دھمکی آمیز لہجے اور بے بنیاد الزامات کے سہارے بات آگے بڑھائی گئی۔
بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس، تاجر برادری، سابق فوجی افسران اور دیگر اہم شخصیات نے مودی کے خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیرتسلی بخش قرار دیا۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کو اس جنگ اور اس کے نتائج سے متعلق مکمل سچائی پارلیمنٹ کے سامنے رکھنی چاہیے۔