Thursday, 12 February 2026 | Web Desk
وزیراعظم شہباز شریف نے سولربجلی استعمال کرنےوالےصارفین سے متعلق نیپراکی نئے ریگولیشنزکا فوری نوٹس لے لیا۔
وزیر اعظم نےاس حوالےسےایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدادرت کی، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، عطا تارڑ، اویس لغاری، پرویز ملک، بلال کیانی، محمد علی اور احد چیمہ سمیت دیگروزرااورمتعلقہ حکام نے شرکت کی۔
شہباز شریف نے پاورڈویژن نیپرا کو سولرصارفین کےمفادات کے تحفظ سےنیپراکی ریگولیشنزکےخلاف نظرثانی اپیل دائرکرنے اورموجودہ معاہدوں کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنائے جانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نےاجلاس سےخطاب کرتےہوئے کہا، 4 لاکھ 66 ہزارسولرصارفین کا بوجھ 3کروڑ 76 لاکھ نیشنل گرڈ بجلی صارفین پر نہیں پڑناچاہیے۔ وزیراعظم نے پاور ڈویژن کوجامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ۔
سولر صارفین سے متعلق نیپراکےنئے ریگولیشنز
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کردیے ہیں۔
پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر ہی بیچیں گے مگر نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو بیچی گئی بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 17 روپے 19 پیسے کی بڑی کمی کی گئی ہے۔
نئے صارف کو اس کی فی یونٹ قیمت 3 گنا سے بھی کم یعنی 8 روپے 13 پیسے ملے گی ۔
نئے اور پرانے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا بھی نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ، صارف کا یونٹ اب سرکاری یونٹ کے برابر نہیں ہو گا، اب نیشنل گرڈ سے لی گئی ساری بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومتی ٹیرف اور سلیبس کے حساب سے ہو گی۔
نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت 7 سال سے کم کر کے5 سال کر دی گئی ہے ۔