Tuesday, 4 August 2026 | Web Desk
راناثنااللہ کہتےہیں نوازشریف نےمحسن نقوی کےبیان پرردعمل دینےسےمنع کردیاہے۔ اگرچہ جس طرح انہوں نےاپنی گفتگومیں وزیراعظم کاریفرنس دیااورفیلڈمارشل کےبارےمیں کہاکہ وہ ریڈلائن کراس نہیں کرناچاہتے، ایک قومی ہیروکےبارےمیں اس طرح کی باتیں کرنابالکل بھی درست نہیں ۔
جیونیوزکےپروگرام آج شاہزیب خانزادہ کےساتھ میں گفتگوکرتےہوئےانہوں نےکہاکہ لیکن اس بحث کومزیدالجھانےکی طرف لےجانےکی بجائےپارٹی قیادت چاہتی ہےایسی بےمعنی گفتگوکاکوئی جواب نہ دیاجائے۔ اس گفتگوکاکوئی سیاق وسباق نہیں ۔ راناثنااللہ سےپروگرام اینکرشاہزیب خانزادہ نےپوچھاکہ کیاوزیراعظم محسن نقوی سےیہ بھی نہیں پوچھ سکتےکہ انہوں نےیہ بیان کیوں دیا؟ کیاوزیراعظم محسن نقوی سےیہ بھی نہیں پوچھ سکتےکہ پی سی بی میں توکوئی مداخلت نہیں کرتا، وہاں آپ نےکیابہترکرلیا؟
اس پرراناثنااللہ کاکہناتھاکہ کیوں نہیں پوچھ سکتے۔ محسن نقوی وزیراعظم سےملےبھی ہیں اورممکن ہےاس حوالےسےبات بھی ہوئی ہو۔ میں تواس معاملےپربات کرناچاہتاتھاکہ پارٹی کی طرف سےہدایت ہےکہ مزیدبات نہ کی جائے۔ اس معاملےپروفاقی کابینہ میں بھی بات ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم محسن نقوی کوکابینہ اجلاس میں بلائیں گےتووہ ضرورآئیں گے۔
شاہزیب خانزادہ نےپوچھاکہ کیادراڑپڑگئی ہے؟ راناثنااللہ نےکہاکہ قطعی کوئی دراڑنہیں پڑی ۔ مجھےتولگتاہےکہ محسن نقوی صاحب شایدکہناکچھ چاہتےتھےلیکن کہہ کچھ اورگئے۔ کمی سسٹم میں نہیں اس پرعمل کرنےمیں ہے۔ سسٹم پرعمل کیاجائےتویہ ڈلیورکرسکتاہے۔
راناثنااللہ نےسختی سےایسی خبروں کی تردیدکی جن میں حکومت کو6ماہ کی ڈیڈلائن دینےکی باتیں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نےکہاکہ اس قسم کی باتیں محض قصےکہانیاں ہیں ۔