Monday, 29 June 2026 | Web Desk
کراچی میں سندھ رینجرز کے کیمپ پرحملے میں ملوث ایک خارجی دہشت گردکااعترافی بیان سامنےآیاہے۔
افغان بیسڈکالعدم دہشت گردتنظیم جماعت الاحرارسےتعلق رکھنےوالایہ دہشت گرشتہ روزاپنےدیگرساتھیوں کےساتھ رینجرزکیمپ پرحملہ کرنےآیالیکن حملہ ناکام ہونےپربھاگنےکی کوشش میں یہ زخمی حالت میں پکڑاگیا۔
گرفتارزخمی دہشت گردنےبتایاکہ اس کانام عثمان ہےاوروہ افغانستان کےعلاقےجلال آبادکارہنےوالاہے۔ اس نےبتایاکہ حملےمیں ملوث اس کےتینوں ساتھوں کےنام عبدالہادی، جانان اورعمرفاروق تھے۔ واضح رہےکہ یہ تینوں دہشت گردحملےکےدوران فورسزکی فائرنگ سےجہنم واصل ہوگئےتھے۔
دہشت گردعثمان کےمطابق اس کےساتھ دہشت گردجانان نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر بم پھینکا تھا۔ اس کامزیدکہناتھاکہ وہ لوگ سات دن قبل باجوڑ کے رہائشی عبدالہادی کے پاس آئے۔
گرفتار دہشت گرد عثمان کےمطابق انہیں زیرتعمیر عمارت میں رکھا گیا، حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا۔ اس کاکہناتھاکہ جب حملےکےبعدمیں بھاگ رہا تھا تو گولی لگنےسےوہیں گرگیا۔
گرفتار دہشت گرد نے انکشاف کیا جماعت الاحرارکے افغانستان میں کمانڈرکا نام احرار مولوی ہے، ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی، ہم سب خودکش جیکٹ بنالیتے ہیں، افغانستان میں خودکش جیکٹ اوردیگر ٹریننگ عمرقاری نے دی تھی، کراچی آنے سےپہلےہمارےلیےافغانستان سےسب انتظامات کرلئےگئےتھے۔
دہشت گرد عثمان کے مطابق عبدالہادی پہلے بھی کراچی چکاتھااورسب جانتاتھا۔ اس کاکہناتھاکہ پہلے ہمیں فوج اور رینجرز میں فرق معلوم نہیں تھا، یہاں آکر رینجرز سے واقف ہوئے اور ہمیں بتایا گیا کہ یہ سب کافر ہیں۔
دفاعی اور سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے دہشت گرد کے یہ اعترافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبوری افغان طالبان حکومت کے دور میں افغانستان کی سرزمین ایسے دہشت گرد عناصر کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔