Thursday, 23 October 2025 | Web Desk
وفاقی کابینہ نےتحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پرپابندی کی منظوری دے دی ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کےاجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی گئی۔ وفاقی کابینہ کوملک میں ٹی ایل پی کی پرتشدداوردہشت گردانہ سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی۔
وفاقی کابینہ کے اعلامیےکے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ 2016 سے قائم اس تنظیم نے پورے ملک میں شرانگیزی کو ہوا دی، تنظیم کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں شرانگیزی کے واقعات ہوئے، 2021 میں اس وقت کی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی جو6 ماہ بعد اس شرط پرہٹائی گئی کہ آئندہ ملک میں بدامنی اور پرتشدد کاروائیاں نہیں کی جائیں گی۔
اعلامیےکے مطابق تنظیم پر پابندی کی وجہ 2021 میں دی گئی ضمانتوں سے روگردانی بھی ہے، ماضی میں بھی ٹی ایل پی کے پرتشدد جلسوں اورریلیوں میں سکیورٹی اہلکاراوربےگناہ راہگیر جاں بحق ہوئے۔
کابینہ کےٹی ایل پی پرپابندی کےفیصلےکےبعدفاقی وزارت داخلہ نےٹی ایل پی پرپابندی کانوٹیفکیشن جاری کردیاہے۔ جس کےبعدٹی ایل پی کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے۔ اس جماعت کےبینک اکاونٹس اوراثاثےضبط کرلئےجائیں گے۔ اس کےعلاوہ اس کالعدم جماعت کےرہنماوں کےبیرون ملک سفرپربھی پابندی ہوگی۔
امریکاپاکستان پرمہربان، بھارت کےہوش اڑگئے
سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرنہ کرنےکافیصلہ
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریفرنس دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کےذرائع کے مطابق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی کے لیے سپریم کورٹ سے فیصلہ درکار نہیں ہوتا۔
ذرائع وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے نہ کہ آرٹیکل 17 کے تحت۔
پنجاب میں ہنگامہ آرائی ، توڑپھوڑاورپولیس اہلکاروں کی شہادت کےبعدپنجاب حکومت کی جانب سے ایک ہفتہ پہلےٹی ایل پی پر پابندی کا ریفرنس وزارت داخلہ کو بھیجا گیا تھا۔