Tuesday, 23 December 2023 | Web Desk
تحریکِ انصاف کےاندرسیاسی حکمتِ عملی سےمتعلق واضح تضاد سامنےآگیا۔
ایک طرف اپوزیشن اتحاد کےسربراہ محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کے کئی سینئر رہنماحکومت کےساتھ ڈائیلاگ، مفاہمت اورمعاملات کے سیاسی حل پر زور دے رہے ہیں اوراس مقصدکیلئے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن سے کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی جا رہی ہے۔
دوسری طرف عمران خان اپنی ہی پارٹی کےسرکردہ رہنماؤں کےبیانیےکےبرعکس ڈائیلاگ کے بجائے احتجاج، اسٹریٹ ایجی ٹیشن اور تصادم کی بات کررہےہیں ۔
توشہ خانہ ٹوکیس میں سزاکےبعدسوشل میڈیاپرعمران خان نےاعلیٰ عسکری قیادت کوبراہ راست تنقیدکانشانہ بنایا۔ ذرائع کےمطابق انہوں نےوزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی کوسٹریٹ موومنٹ کی ہدایت بھی کی ہے۔
سینئرصحافی انصارعباسی نےاپنےکالم میں لکھاہےکہ عمران خان خودکہتےہیں انہیں فوج سےکوئی مسئلہ نہیں، ان کامسئلہ ایک شخصیت ہیں ۔ بقول انصارعباسی ، بانی کاایساکہناسچ ہےتوپھروہ سب سےپہلےنومئی واقعات کی مذمت کریں اورفوج کےخلاف پراپیگنڈہ کرنےوالےاپنےسوشل میڈیاکوبھی شٹ اپ کال دیں ۔
وہ ایساکریں گےتبھی لوگ ان کی اس بات پریقین کریں گےکہ فوج میری اپنی ہے،مجھےفوج سےکوئی مسئلہ نہیں ۔
سیاسی ماہرین کاکہناہےسیاسی بحران کےحل میں سب سے بڑی رکاوٹ خودعمران خان ہیں ۔ ان کی جارحانہ اورغیرمفاہمانہ حکمتِ عملی سے نہ صرف ڈائیلاگ متاثرہورہاہےبلکہ پی ٹی آئی مزید تنہائی کاشکارہوتی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، شہباز شریف حکومت کا موقف ہے کہ اظہارِ ندامت یا معذرت کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔ ان لوگوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، شہداء کا تمسخر اڑایا اور فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کیخلاف کردارکشی کی مہم چلائی۔ ایسے حالات میں کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔