ویب ڈیسک: اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبدالعزیز الوسیل نے صنفی مساوات کے لیے کیے گئے عشروں کے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر زور دیاہے۔ یہ بات انہوں نے نیویارک میں حیثیت نسواں کے 69ویں کمیشن کے افتتاحی اجلاس کے دوران کہی۔ الوسیل نے عالمی چیلنجز، جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، تنازعات اور معاشی عدم استحکام، کو صنفی مساوات کی پیشرفت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
یہ کمیشن، جو 1946 میں قائم کیا گیا تھا، صنفی مساوات اور خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اس سال کا اجلاس 1995 کے تاریخی بیجنگ ڈیکلئیریشن اور پلیٹ فارم فار ایکشن کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہو رہا ہے، جسے 181 ممالک نے خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اقدام کے طور پر اپنایا تھا۔
پیشرفت اور چیلنجز کا جائزہ
69ویں سی ایس ڈبلیو اجلاس کے چیئرپرسن کے طور پر الوسیل نے بیجنگ ڈیکلئیریشن کے بعد ہونے والی پیشرفت کو سراہا، جیسے کہ خواتین کی قیادت میں اضافہ، تعلیم تک بہتر رسائی، اور صنفی مساوات کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی بحران ان کامیابیوں کو پلٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "بیجنگ کا وعدہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔”
وعدوں کو عمل میں تبدیل کرنا
الوسیل نے صنفی مساوات کے لیے تمام پالیسیوں اور اقدامات کو مرکزی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ہمیں خواتین اور لڑکیوں کو قیادت کرنے، پالیسیاں بنانے اور حل پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
خواتین کی کامیابیوں کو خراج تحسین
الوسیل نے اپنے خطاب کے دوران تین متاثر کن خواتین کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جن میں سعودی عرب کی 16 سالہ جینا ریفی بھی شامل ہیں، جو سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی) کے شعبے میں ایک رول ماڈل ہیں۔ ریفی، جو نیوم پروجیکٹ ٹیم کی سب سے کم عمر رکن ہیں، نے اپنے سفر کے بارے میں بتایا کہ کیسے سعودی ویژن 2030 نے انہیں قابل تجدید توانائی اور الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد دی۔
69ویں سی ایس ڈبلیو اجلاس کے اہم موضوعات
دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں غربت، روزگار کے مواقع، موسمیاتی تبدیلی، خواتین کے خلاف تشدد، اور نوجوانوں کی شمولیت جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اختتامیہ
69ویں کمیشن برائے حیثیت نسواں کے اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کا یہ مطالبہ صنفی مساوات کے حصول کے لیے عالمی عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ جینا ریفی جیسی خواتین کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے، عالمی برادری صنفی مساوات کے لیے اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔