Tuesday, 14 October 2025 | Web Desk
بیجنگ نے گزشتہ ماہ ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی کواسی کےاندازمیں جواب دیتےہوئےاپنی کمپنیوں کو امریکی ادارے این ویڈیا کی مصنوعی ذہانت کی چپس خریدنے سے روک دیا۔ اس اقدام کو ماہرین ایک سوچا سمجھا جواب قرار دے رہے ہیں جو امریکہ کی جانب سے چین پر ٹیکنالوجی پابندیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
امریکی صدرکی کھوکھلی دھمکیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کے بعد چین پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور سو فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس ماہ سیئول میں ہونے والی ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن سمٹ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات منسوخ کر سکتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق امریکی دباؤ کی یہ کوششیں اب بے اثر ثابت ہو رہی ہیں، کیونکہ ان پابندیوں نے چین کو ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی طرف بڑھنے پر مجبور کیا ہے۔
Huawei اور DeepSeek — امریکی پابندیوں کے باوجود ابھرتی طاقتیں
چینی کمپنی ہواوے پر 2019 میں جب امریکی ٹیکنالوجی خریدنے پر پابندی لگی تو خیال تھا کہ کمپنی کا وجود ختم ہو جائے گا، مگر اس نے مقامی تحقیق اور ترقی پر توجہ دے کر نہ صرف اپنی بقا ممکن بنائی بلکہ دوبارہ چین کی سب سے بڑی اسمارٹ فون کمپنی بن گئی۔ حال ہی میں چینی کمپنی ڈیپ سیک نے مقامی چپس کی مدد سے ایک مصنوعی ذہانت کا ماڈل تیارکیاجو امریکی ماڈلز کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت میں تیار ہوا۔
چین کاخودپراعتماد
اگرچہ چین اب بھی جدید ترین چپس کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں دنیا سے کچھ پیچھے ہے، مگر این ویڈیا پر پابندی اس بات کا عندیہ ہے کہ چین اپنے چپ ساز اداروں کی صلاحیت پر اعتماد رکھتا ہے۔ ہواوے اور دیگر کمپنیوں نے کم طاقتور چپس کو ملا کر ایسی کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کر لی ہے جو این ویڈیا کی ٹیکنالوجی کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ٹرمپ کا تجارتی انداز — لیکن چین یوکرین نہیں
امریکی صدر ٹرمپ ہمیشہ کاروباری انداز میں بین الاقوامی معاملات چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے ساتھ معدنی وسائل کے بدلے فوجی امداد اور تائیوان سے سیکورٹی کے بدلے چپ فیکٹریاں منتقل کرنے کی پیش کش کی، لیکن چین کے معاملے میں ان کی یہ حکمتِ عملی ناکام رہی۔ اپریل میں جب انہوں نے چین پر 145 فیصد محصولات عائد کیے تو چین نے فوری طور پر 125 فیصد جوابی ٹیرف لگا کر واضح پیغام دیا کہ وہ دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
چین کا اقتصادی رخ — ’گلوبل ساؤتھ‘ کی طرف
چین نے گزشتہ چند برسوں میں امریکی مصنوعات کی درآمد میں نمایاں کمی کی ہے۔ مکئی، سویا بین، گوشت اور تیل جیسے اجناس کی خریداری میں بڑی حد تک کمی آئی ہے اور چین نے اپنی تجارت کو افریقہ اور ایشیا کے ممالک کی طرف منتقل کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اب بھی دفاعی اور صنعتی مقاصد کے لیے درکار نایاب معدنی دھاتوں کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے۔ چین نے ان دھاتوں کی برآمد محدود کر کے امریکی صنعتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکہ بھارت ٹیرف تنازع حل ہونےکاامکان
طاقت کاتوازن چین کےحق میں
ماہرین کے مطابق چین کے یہ اقدامات اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ اب تجارتی جنگ میں طاقت کا توازن بیجنگ کے حق میں جا چکا ہے۔ امریکہ کے پاس نہ کوئی نیا حربہ باقی ہے اور نہ ہی کوئی مضبوط پوزیشن۔ صدر ٹرمپ اس وقت صرف دھمکیوں کے ذریعے اپنے وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ چین اپنی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی اور اقتصادی قوت کے بل بوتے پر عالمی منظرنامے میں برتری حاصل کر چکا ہے۔