Below Header Banner Area
Home / حکومت کےمعاشی دعوےجھوٹ کاپلندہ

حکومت کےمعاشی دعوےجھوٹ کاپلندہ

Above Article Banner Area
Muhammad Zubair Article on PTI Govt economic performance

ہمیں کس شوکت ترین پریقین کرناچاہیے؟ اس شوکت ترین پرجس نےوزیرخزانہ بننےسےپہلےشاہزیب خانزادہ کوانٹرویودیتےہوئےکوئی لگی لپٹی رکھےبغیرکہاتھاکہ ملکی معیشت تباہی سےدوچارہےیاپھراس شوکت ترین پرجس نےپارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرتےہوئےپی ٹی آئی حکومت کی تعریفوں کےپل باندھ دئیے؟ یہ جاننااس لئےضروری ہےکہ اس سےہمیں موجودہ حکومت اوراس سےجڑےلوگوں کی ساکھ کااندازہ ہوتاہے۔

شوکت ترین نےاس حکومت کی معاشی بدانتظامی کوتباہ کن قراردیااوراس کی کمزورقوت فیصلہ کوبھی کڑی تنقیدکانشانہ بنایا۔ شوکت ترین کےمطابق آئی ایم ایف کےپاس جانےمیں تاخیرسےملکی معیشت پرکاری ضرب لگی ۔ شوکت ترین کےمطابق حکومت کےپہلےسال میں شرح سودکو6.25فیصدسےبڑھاکر13.25فیصدکرنےاورروپےکی قدرمیں بھاری بھرکم کمی نےمعیشت پرگہرےمنفی اثرات مرتب کئے۔ اس کےعلاوہ گیس اوربجلی کےٹیرف میں بےانتہااضافےسےمہنگائی میں ہوشربااضافہ ہوا۔

گزشتہ بیس سال کےمقابلےمیں تحریک انصاف حکومت کےپہلےسال ٹیکس ریونیومیں کمی واقع ہوئی ۔ اس سال کاٹیکس ریونیو4650 ارب ہوگا،جس کامطلب ہےکہ موجودہ حکومت کےتین سالوں میں ٹیکس ریونیوصرف 21فیصدبڑھایعنی سالانہ 7فیصد۔ اس کےمقابلےمیں مہنگائی میں دگنااضافہ ہواہے۔ ٹیکس ریونیوکی یہ شرح منفی ہے۔ اس سےبھی زیادہ اہم بات یہ ہےکہ ٹیکس ٹوجی ڈی پی کی شرح 2018میں 12.6فیصدکےمقابلےمیں اس وقت 10فیصدرہ گئی ہے۔

گزشتہ تین سال میں جی ڈی پی کاسائز315ارب ڈالرسےگرکر296ارب ڈالرپرآگیا۔ لیکن اگرمعاشی ترقی کی رفتاروہی رہتی جون لیگ چھوڑکرگئی تھی توملک کی جی ڈی پی کاسائزاس وقت 370ارب ڈالرہوتا۔

حکومت نےرواں مالی سال اقتصادی شرح نموکاتخمینہ3.94فیصدلگایاہےلیکن اس حکومت کی ساکھ کومدنظررکھتےہوئےہمیں اس دعوےکےدرست یاغلط ہونےکاانتظارکرناہوگا۔ آپکویادہوگاکہ اپنےپہلےسال میں اس حکومت نےاقتصادی شرح نموکو3.3فیصدکی سطح پردکھایاتھالیکن جب درست فگرزسامنےآئےتوپتاچلاکہ ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح 1.9فیصدتھی ۔ کچھ دیرکیلئےمان بھی لیاجائےکہ اقتصادی ترقی کی شرح رواں مالی سال 3.9فیصدرہےگی تواس کامطلب ہےملک کی پچھلےدوسال کی اوسط شرح نمو1.8فیصدتھی جسےہم پاکستان کی تاریخ کی بدترین اقتصادی شرح نموکہہ سکتےہیں ۔

مہنگائی کاوہ حال ہےکہ اس سےپہلےنہ ایسی مہنگائی دیکھی نہ سنی ۔ مہنگائی کی بات کریں توسب سےزیادہ فکرمندی کی بات اشیائےخوردنی کامہنگاہوناہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کےمقابلےمیں ملک میں اس وقت ترقی بدترین اورمہنگائی بلندترین سطح پرہے۔ اس حکومت کےپہلےڈھائی سال میں 50لاکھ افرادبےروزگارہوئے جبکہ دوکروڑکےقریب لوگ خط غربت سےنیچےجاچکےہیں ،

مالی خسارےکی بات کریں توپہلےسال میں یہ 9.1فیصدتھاجوکہ پچھلےچالیس سال میں سب سےزیادہ تھا۔ اس کےبعددوسرےاورتیسرےسال میں یہ 8فیصدپررہاجوکہ پاکستان کی تاریخ میں اس سےپہلےکبھی نہیں ہوا۔

یہ تحریک انصاف کی حکومت کاچوتھابجٹ تھا۔ پہلاستمبر2018میں اسدعمرنےپیش کیا ، دوسراحماداظہرنےجون2019میں پیش کیا،تیسراحفیظ شیخ نےجون2020میں پیش کیاجبکہ چوتھاشوکت ترین نےجون 2021میں پیش کیاہے۔ یہ ایک طرح کاریکارڈہےکہ ایک حکومت نےچارسال میں چارمرتبہ وزیرخزانہ بدلا۔ حکومتی ٹیم کےاہم ترین لوگوں کواس قدرجلدی جلدی تبدیل کرناظاہرکرتاہےکہ کارکردگی تسلی بخش نہیں ۔

اس بجٹ میں دئیےگئےاعدادوشمارکودیکھ کرلگتانہیں کہ اس مرتبہ بھی حکومت اپنےاہداف حاصل کرپائےگی ۔ 5.8کھرب کاٹیکس ریونیوٹارگٹ حقیقت پسندی سےدورلگتاہے۔ وہ حکومت جس نےاپنےتین سال میں محض 800ارب بڑھائےہوں وہ ایک سال میں 1100 ارب کےٹیکس اکٹھاکرنےکی بات کرتی ہے۔ وزیرخزانہ جھوٹ بولتےہیں جب وہ کہتےہیں کہ اس بجٹ میں نئےٹیکس نہیں لگائےگئے۔ آپ دیکھیں گےکہ اگربجٹ منظورہوگیاتوملک میں 383ارب کےنئےٹیکس لگیں گے۔

نوٹ: مسلم لیگ ن کےرہنمامحمدزبیرکایہ آرٹیکل روزنامہ ڈیلی ٹائمزمیں شائع ہواجسےاردومیں ترجمہ کرکےآپکےلئےپیش کیاگیا۔

Below Article Banner Area

About Zaheer Ahmad

The writer is a working journalist for the last 20 years. Currently, he is working for a news channel. He can be reached at [email protected] His twitter handle is: @ZaheerAhmad17

یہ بھی چیک کریں

Why PM Imran Khan was not in National security meeting?

وزیراعظم قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں کیوں نہیں آئے؟

عسکری قیادت کی طرف سےملک کی سیاسی لیڈرشپ کوقومی سلامتی سےجڑےمعاملات پرتفصیلی بریفنگ ایک خوش …