Sunday, 31 May 2026 | Web Desk
عیدالاضحیٰ کےتیسرےروزرات پونےدوبجےکےقریب میں نےلبرٹی مارکیٹ میں تین زندگیوں کوموت سےبچتےدیکھا۔ ایک موٹرسائیکل پرمیاں بیوی اوران کامعصوم بیٹالبرٹی مارکیٹ کی مین روڈسےلبرٹی گول چکرکی طرف جارہےتھے۔ ٹینکی پربیٹھادوڈھائی سال کابچہ موٹرسائیکل کی سیریاپھرشایدآئس کریم کھانےکاسوچ کرخوشی سےجھوم رہاتھا، میں چونکہ پیدل تھااس لئےانہیں دورسےہی دیکھ سکتاتھا۔ اسی اثنامیں اچانک طوفانی رفتارسےدوڑتی ہوئی ایک گاڑی اس موٹرسائیکل کورانگ سائیڈسےاوورٹیک کرتےہوئےیہ جاوہ جا۔ ایک لمحےکیلئےبھی خدانخواستہ موٹرسائیکل سواریاوہ گاڑی والاچوک جاتاتوگھرسےآئس کریم کھانےکیلئےنکلنےوالایہ خاندان شایدخودلقمہ اجل بن جاتا۔
شکرہےیہ کوئی حادثہ نہیں تھالیکن لبرٹی مارکیٹ سےاپنےگھرغالب مارکیٹ پہنچنےتک میں یہ سوچ سوچ کرہلکان اورپریشان ہوتارہاکہ خدانخواستہ اگرحادثہ ہوجاتا ۔۔۔ توکیاہوتا؟؟؟
میرااس طرح سےسوچناکوئی اوورتھنکنگ نہیں کیونکہ پنجاب ، باالخصوص لاہورکی سڑکوں پرایسےحادثات معمول بنتےجارہےہیں۔ انسانی غفلت ، لاپرواہی اورحکومتی بےحسی کےنتیجےمیں بہت سےماں باپ اپنےقیمتی بچوں اوربچےوالدین جیسی انمول نعمت سےہمیشہ کیلئےمحروم ہوچکےہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ مریم نوازپنجاب کوخوب سےخوب بنانےکیلئےدن رات کوششوں میں لگی ہوئی ہیں ، ان کےکام ہمیں نظربھی آرہےہیں لیکن ایک کام جوشایدانہیں دکھائی نہیں دےرہا، وہ ہےسڑکیں سب کیلئےمحفوظ بنانا۔ لاہورکی سڑکیں بہترہونےسےٹریفک کی روانی توبہرحال بہترہوئی ہےلیکن ساتھ ہی ایک مسئلہ بھی شدت سےسامنےآیاہے۔ ان سڑکوں پرہیوی موٹربائیکس پرسوارکچھ امیرزادے، عام موٹرسائیکلوں پرکرتب دکھانےوالےمنچلےاوردولت یاکسی اورنشےمیں مست بگڑےرئیس زادےرات گئےریس لگانےنکل پڑتےہیں۔ ریش ڈرائیونگ ، اندھادھندریس لگانااورون ویلنگ ان سڑکوں پرمعمول بنتاجارہاہےاورایساکرنےوالوں کوکم ازکم دوسروں کی جان کی ذرابھرپروانہیں ۔
یہ سب دیکھ کرسوچتاہوں کہ سیف سٹی والےکس کام کی تنخواہ لےرہےہیں؟ چالان توفوراًبھیج دیتےہیں لیکن دوسروں کی زندگیوں کیلئےخطرہ بننےوالےانہیں کیوں نظرنہیں آتے؟
مریم نوازلاہورکوانٹرنیشنل سٹی بناناچاہتی ہیں لیکن ان کایہ خواب محض شہرکوخوبصورت بنانےسےپورانہیں ہوگا ۔ ایساکرنےکیلئےبےہنگم اورشتربےمہارٹریفک کاقبلہ درست کرناناگزیرہے۔ اس طرح نہ صرف بہت سی قیمتی جانوں کوبچایاجاسکتاہےبلکہ انٹرنیشنل رینکنگ میں لاہوربہت اوپرچلاجائےگا، لیکن ایساکرناآسان نہیں۔
اچھی بات یہ ہےکہ اس کام کوکرنےکیلئےفنڈزکی نہیں ول پاورکی ضرورت ہے۔ ایک ایمانداراورسخت گیرسی ٹی اوکی ڈیوٹی لگائیں اوراسے چھ ماہ کےاندرلاہورکی ٹریفک ٹھیک کرنےکاٹارگٹ دیں ۔ آپ پرسیاسی اورہرطرح کاپریشرآئےگالیکن لیکن اگرآپ لاہورکےٹریفک سسٹم کودبئی کےسٹینڈرڈپرلےآئیں تولکھ رکھیں کہ یہ آپ کابیسٹ کام ہوگا۔
جیسےآپ پنجاب کوخواتین کیلئےانتہائی محفوظ اورہراسمنٹ سےپاک صوبہ بناناچاہتی ہیں ، اس طرح پنجاب کی سڑکوں کوبھی اس قدرمحفوظ بنادیں کہ عیدپرجب کوئی خاندان موٹرسائیکل پراپنےبچےکوآئس کریم کھلانےنکلےتواسےیہ ڈرنہ ہوکہ کوئی امیرزادہ اپنی گاڑی سےانہیں ہٹ کردےگا۔ اللہ تعالیٰ نےآپ کوموقع اوراختیارسب کچھ دےرکھاہے، یہ کام کرگزریں ،
لوگ دن رات آپ کودعائیں دیں گے۔