تجزیہ : ظہیراحمد
مسلم لیگ ن کےسابق رہنماچودھری نثارعلی خان سومواربروز24مئی پنجاب اسمبلی کےممبرکی حیثیت سےاپنےعہدےکاحلف اٹھائیں گے۔ وہ 2018کےالیکشن میں راولپنڈی کےحلقہ پی پی 10سےبطورآزادامیدوارکامیاب قرارپائےلیکن انہوں نےپنجاب اسمبلی کےرکن کاحلف نہیں اٹھایاتھا۔
چودھری نثارنےاپنےحلف نہ اٹھانےکی وجہ بتاتےہوئےکہاتھاکہ ان کےحلف اٹھانےکامطلب ہوگاکہ انہوں نےالیکشن میں ہونےوالےدھاندلی کوقبول کرلیاہے۔
اب تقریباًتین سال بعدان کااچانک پنجاب اسمبلی کےرکن کاحلف اٹھانےکااعلان کرناحکومت سمیت بہت سےحلقوں کوحیران کےساتھ ساتھ پریشان بھی کررہاہے۔ شایدیہی وجہ ہےکہ حکومت نےچودھری نثارکےحلف اٹھانےکی راہ میں رکاوٹ ڈالنےکی تیاریاں شروع کردی ہیں اورذرائع کےمطابق پوری کوشش کی جائےگی کہ چودھری نثاربطوررکن پنجاب اسمبلی حلف نہ اٹھاسکیں۔
حکومت کوشایدیہ لگتاہےیااسےیہ بتایاجارہاہےکہ چودھری نثارکایوں تین سال بعداچانک سیاسی منظرنامےپرمتحرک ہونامحض اتفاق نہیں ۔ حکومت اوراسکےمشیرچودھری نثارکےحلف اٹھانےکےفیصلےکوشہبازشریف کےپی ڈی ایم کوایک بارپھریکجاکرنےکی کوششوں سےجوڑکردیکھنےکی کوشش کررہےہیں ۔ حکومت اوراس کےدوستوں کولگتاہےکہ چودھری نثارکی آمدعثمان بزدارکی رخصتی کی شروعات ہوسکتی ہےاوراسی لئےکوشش کی جائےگی کہ تکنیکی بنیادوں پرچودھری نثارکوحلف اٹھانےسےروکاجائے۔
دوسری جانب چودھری نثارکاکہناہےکہ وہ میدان خالی نہیں چھوڑناچاہتےتھےاس لئےانہوں نےحلف اٹھانےکافیصلہ کیا۔
حقیقت جوبھی ہے،لیکن ایک بات طےہےکہ چودھری نثارکےاچانک حلف اٹھانےکےفیصلےنےپنجاب کی سیاسی فضاءوں میں ایک خاموش طوفان کی آمدکی خبردیدی ہے۔ اب دیکھیں یہ طوفان کس کس کوتہس نہس کرتاہے؟