Wednesday, 9 September 2026 | Web Desk
چوری اورسینہ زوری ایک مشہورکہاوت ہےاوراس کہاوت کےعملی مظاہرےاکثراوقات ہمیں سڑکوں پردیکھنےکومل جاتےہیں ۔ اسی حوالےسےایک واقعہ گزشتہ روزکراچی میں پیش آیاجب طاقت کےنشےمیں بدمست ایک رئیس زادےنےاپنےمسلح گن مینوں کےساتھ جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر عارف ساقی اوران کےبھتیجےکومارمارکرلہولہان کردیا۔
پروفیسرصاحب آن لائن کیب میں جامعہ کراچی جارہے تھے۔ راستےمیں ایک جگہ ان کی ٹیکسی رکی۔ اسی دوران ریورس گیئرمیں ایک ڈبل کیبن نےٹیکسی کوپیچھےسےہٹ کردیا۔ اس پرپروفیسرعارف نےڈبل کیبن چلانےوالےسےکہاکہ وہ اس غریب کیب والےکانقصان پوراکریں۔ اتنی سی بات پرڈبل کیبن میں سوارمقامی ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور گن مینوں نےپروفیسرصاحب اوران کےبھتیجےکومارناشروع کردیا۔ ان کےسر پر پستول کے بٹ مارے، دھکے دیے،اس کےبعد گھسیٹ کر ریسٹورنٹ میں لے گئے اور وہاں بھی خوب تشددکیا۔
سچل تھانےکی پولیس نےواقعہ کامقدمہ درج کرکےتین افرادکوحراست میں لےلیاہے۔ پولیس کےمطابق تشددکرنےوالےاپنےمالک کے ہوٹل میں ملازم ہیں، مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ مقدمہ کونین علی گوہر شاہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج کیا گیا، مقدمے میں اقدام قتل، مارپیٹ، زخمی کرنے اور حبسِ بے جا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے پروفیسر ساقی پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔