Home / پاکستانی جامعات کاگرتامعیارکہاں جاکررکےگا؟

پاکستانی جامعات کاگرتامعیارکہاں جاکررکےگا؟

Pakistani Universities global ranking falling

Tuesday. 7 July 2026

کہتےہیں ابھرتاسورج پوری دنیادیکھتی ہےلیکن ہماراتوڈوبتاسورج بھی دنیاکی نظروں سےپوشیدہ نہیں ۔۔ کہتےہیں کامیابی چمکتی ہےلیکن ہماری توناکامیاں بھی پوری دنیامیں جگ مگ کررہی ہیں ۔

بہترین جامعات کی عالمی رینکنگ دیکھتےہوئےجب دورکہیں پستیوں میں لڑھکتی پاکستانی جامعات پرنگاہ پڑی توسوچنےلگایہ وہ ادارےہیں جہاں ہمارامستقبل بنتاہے، اگران کی یہ حالت ہےتوبخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہےکہ ہمارامستقبل کیساہوگا؟۔ ایک بھی پاکستانی یونیورسٹی دنیاکی 350 بہترین جامعات میں جگہ نہیں بناسکی ۔ اس بات کادکھ توہےہی لیکن اس سےبھی زیادہ افسوس یہ دیکھ کرہواکہ پاکستان کی جامعات اپنی گزشتہ سال کی درجہ بندی سےبھی نیچےگرچکی ہیں ۔

چندایک مثالیں دیکھ لیں ۔۔۔

جامعات کی عالمی درجہ بندی کےادارےکیوایس کےمطابق قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد گزشتہ برس 354ویں نمبرپرتھی لیکن موجودہ درجہ بندی میں یہ 381ویں نمبرپرجاچکی ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی یعنی نسٹ 371سے384ویں نمبرپرآگئی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی 542ویں سیڑھی سےگرتےہوئےفی الحال588ویں سیڑھی پرآکراٹک گئی ہے۔

لاہورکی مشہورومعروف یونیورسٹی لمز555ویں پوزیشن سےنیچےگرتےہوئےشایدتھوڑی دیرکیلئےسانس لینےکو608ویں نمبرپررکی ہے۔

ایگریکلچریونیورسٹی فیصل آباد654سے629واں نمبر۔

یوای ٹی لاہورنے791، آغاخان یونیورسٹی نے 951ویں پوزیشن حاصل کی ۔۔

بہاالدین ذکریانیورسٹی ملتان اوریونیورسٹی آف لاہور1001ویں نمبرپرہیں۔

پاکستانی جامعات کےگرتےمعیارکی وجہ یہ نہیں یہ وہاں سٹوڈنٹس کوکھانااچھانہیں ملتا ،یاوہاں کی عمارتیں اچھی نہیں ، یاکمروں میں اےسی نہیں ۔۔ ایساکچھ بھی نہیں،بہترین انفراسٹرکچراورسہولتیں میسرہیں لیکن اگرکچھ نہیں، تو وہ ہےتعلیمی معیار۔یہی وجہ ہےکہ ان کی عالمی رینکنگ میں ہرسال بہتری آنےکی بجائےتنزلی ہورہی ہے۔

کچھ عرصہ پہلےلاہورکی ایک نجی یونیورسٹی میں جانےکااتفاق ہوا،اپنےدوست سےپوچھایہاں کی خاص بات کیاہے،کہنےلگایہاں کےسٹوڈنٹ ٹک ٹاک بنانےمیں بہت ماہرہیں ۔

پاکستان میں تعلیم کےساتھ ڈبل ہاتھ یہ ہواکہ حکومت نےسوتیلابچہ سمجھ کراسےنظراندازکررکھاہےجبکہ نجی شعبہ اسےبیچ کردھڑادھڑنوٹ چھاپنےمیں مصروف ہے۔

آپ ہرسال پاکستان کےٹاپ کمپی ٹیشن ایگزام سی ایس ایس کےنتائج میں پاس ہونےوالےامیدواروں کی پرسنٹیج دیکھ لیں ۔۔ آپ کوپتاچل جائےگاکہ ہماراتعلیمی معیارکس درجےپرکھڑاہے۔ یہی وجہ ہےکہ نالائقوں کی فوج ظفرموج کامقابلہ کرکےامتحان پاس کرنےوالےاندھوں میں کانےراجےبنےپھرتےہیں۔

آپ کےملک میں زیادہ ترایم فل اورپی ایچ ڈی اردو، پنجابی ، میس کام ،پولیٹیکل سائنس وغیرہ میں ہورہی ہے، جبکہ کیمسٹری ، فزکس ، میتھ یاانگلش لٹریچرمیں ایم فی یاپی ایچ ڈیز نہ ہونےکےبرابرہیں ۔

آپ دنیاکی نمبرون جامعہ میساچوسس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اورلمزکوآمنےسامنےرکھیں ۔ اورفرض کریں کہ لمزہرسال ایک درجہ ترقی کرتےہوئےایک روزدنیاکی نمبرون جامعہ بن جائےگی توپورے600سال لگیں گے ۔۔

ویسےسچ کہیں توتعلیم ہی کیا، یہاں توآوےکاآواہی بگڑاہواہےاوراس پرستم یہ کہ کوئی بھی خودکوسدھارنےپرتیارنہیں ۔

ایک میڈیاہی تھاجوتھوڑابہت سہی خدائی فوجدارکاکرداراداکررہاتھا، لیکن اب اس کاٹائٹینک بھی ڈوبنےوالاہے۔

کالج میں ہمارےایک ٹیچرنےکہاتھاایک عام آدمی کیلئےترقی کرنےکابہترین اورآسان رستہ تعلیم ہےلیکن جہاں تعلیم غیرمعیاری ہوجائےوہاں کوئی ڈگری لےکربھی کونساتیرچلالےگا۔ ہم سدھرنانہیں چاہتےاس لئےخراب سےخراب ترہوتےجارہےہیں

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at zaheer.ahmad.lhr@gmail.com

یہ بھی چیک کریں

Why Shehbaz Sharif is so smiling?

شہبازشریف کیوں اتنامسکراتےہیں؟

Thursday, 25 June 2026 سابق وزیراعظم نوازشریف سےایک بارکسی نےپوچھا، آپ ہروقت پریشان پریشان رہتےہیں، …