Updated: July 27, 2025
ویب ڈیسک ۔۔ ایک خبرکےمطابق چینی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نےدعویٰ کیاہےکہ انہوں نےایسی بہت سی اینٹی باڈیزڈھونڈلی ہیں جوکوروناوائرس کوانسانی خلیوں میں داخل ہونےسےروکنےمیں رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں۔۔
چینی سائنس دانوں کےمطابق انھوں نےایسی کئی اینٹی باڈیزکوڈھونڈنکالاہےجوانسانی خلیوں کیلئےمحافظ کاکرداراداکرتی ہیں اورکورونا وائرس کی خلیوں میں داخل ہونےکی صلاحیت کوختم کرنے میں انتہائی موثرکرداراداکرتی ہیں ۔ چینی سائنسدانوں کہتےہیں کہ اس سے کورونا وائرس کی روک تھام اورعلاج میں کافی مدد مل سکتی ہے۔
بیجنگ کی سِنگ ہوآیونیورسٹی کے پروفیسر ژینگ لِنچ کویقین ہےکہ ان کی ٹیم نے جس طرح کی اینٹی باڈیز کی نشاندہی کی ہے انھیں ملاکر دوا کا استعمال تمام موجودہ طریقوں سے زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ ان طریقوں میں پلازما جیسی بارڈرلائن ٹریٹمنٹ بھی شامل ہیں۔ژینگ اور ان کی ٹیم نے جنوری میں صحت یاب ہونےوالےکوروناکےمریضوں کے خون سے لی گئی اینٹی باڈیز کا تجزیہ کرنا شروع کیااوراس میں سے206مونوکلونل اینٹی باڈیزالگ کرلیں جو ان کےکہنےکےمطابق وائرس کےخلاف مزاحمت کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہیں۔
کوروناوائرس روکنےکیلئےگولی مارنےکاحکم
واضح کرتےچلیں کہ اینٹی باڈیزانسانی خون میں پائےجانےوالےانگریزی حروف تہجی وائی کی شکل جیسےوہ سیلزہوتےہیں جوخون میں شامل ہونےوالےاجنبی اورمہلک وائرس اوربیکٹریاوغیرہ کےخلاف مزاحمت کرتےہیں ۔ یہ بالکل وہی کام کرتےہیں جوایک فٹ بال ٹیم میں شامل اس کےڈیفنڈرزکرتےہیں کہ مخالف ٹیم کوگول کرنےسےروکنےکی ہرممکن کوشش کرتےہیں ۔
خیال رہے کہ 31 دسمبر 2019 سے چین سے پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس نے اب تک ہزاروں افراد کی جانیں لے لی ہیں اور دنیا بھر میں سائنسدان اس مہلک وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے ویکسین تیار کرنے کی سرتوڑکوششوں میں لگےہوئے ہیں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعدادہزاروں میں ہے۔ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔ کوروناوائرس کےسب سےزیادہ مریض امریکامیں رہےہیں ۔ معاشی لحاظ سےکورونانےدنیاکی معیشتوں کوجونقصان پہنچایا،اس کااندازہ نہیں لگایاجاسکتا۔ دعاہےاللہ پاک دنیاکومہلک بیماریوں اوروباوں سےمحفوظ رکھے، آمین۔