Home / کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت

کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت

ECC approves import of used cars in Pakistan

Thursday, 25 September 2025 | Web Desk

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بدھ کے روز امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترامیم کی منظوری دے دی، جس کے تحت کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہوگی۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ای سی سی نے اس حوالے سے پیش کی گئی سمری پر تفصیلی غور کے بعد تجاویز کی منظوری دے دی۔

فیصلے کی اہم نکات:

  • ابتدائی طور پر صرف پانچ سال سے کم پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہوگی، یہ شرط 30 جون 2026 تک نافذ رہے گی۔ اس کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کردی جائے گی۔
  • درآمد شدہ گاڑیاں ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کےمطابق ہی درآمدکی جاسکتیں گی ۔
  • پانچ سال سے کم پرانی استعمال شدہ گاڑیوں پر موجودہ کسٹم ڈیوٹیز کے ساتھ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہوگی۔ یہ ڈیوٹی 30 جون 2026 تک برقرار رہے گی، جس کے بعد ہر سال 10 فیصد پوائنٹس کم کی جائے گی اور 2029-30 تک مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔
  • ای سی سی نے پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے لیے 80 کروڑ روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی۔

ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ورچوئل طور پر نیویارک سے ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں و ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق اب وفاقی کابینہ کرے گی۔

بی وائی ڈی کاپاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بنانےکااعلان

پس منظر

گزشتہ ماہ مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر حکومت ستمبر سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دیتی ہے تو آئندہ دو برس میں کار اسمبلنگ انڈسٹری بند ہوسکتی ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا نے بتایا کہ استعمال شدہ گاڑیاں پہلے ہی مقامی مارکیٹ کا 25 فیصد حصہ (40 ہزار یونٹس سالانہ) ہیں۔ اس کے برعکس بھارت میں استعمال شدہ گاڑیوں کا حصہ صفر، ویتنام میں 0.3 فیصد اور تھائی لینڈ میں 1.2 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں درآمدی ڈیوٹی 50 سے 100 فیصد تک ہے، جبکہ بھارت میں 125 فیصد، ویتنام میں 52 فیصد اور تھائی لینڈ میں 80 فیصد ہے۔ ان ممالک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی نہ ہونے کے برابر درآمدات دراصل سخت ٹیرف اور انتظامی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔

دوسری جانب آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن (APCDIA) نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بجٹ 2025-26 میں کچھ شرائط کے ساتھ بینکنگ چینلز کے ذریعے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے غیرقانونی فارن ایکسچینج کے بہاؤ کو روکنے اور معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی ٹیکس کلچر کو فروغ ملے گا اور امپورٹرز ایف بی آر کے ساتھ سیلز ڈیٹا شیئر کرنے کے پابند ہوں گے، جس سے شفافیت بڑھے گی۔

یہ بھی چیک کریں

WhatsApp floating notification bubbles on Android phone screen for quick replies

واٹس ایپ میں اہم اپ ڈیٹ کی تیاریاں

Monday, 27 April 2026 | Web Desk واٹس ایپ اپنےصارفین کیلئےبظاہرمعمولی لیکن اصل میں بہت …