تاریخ: 20 مئی 2025 | تحریر: نیوز میکرز ڈیسک
بیجنگ میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں مکمل تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شعبوں اور علاقائی سلامتی میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سرکاری دورہ چین کے دوران وانگ ای سے ملاقات کی۔
"چین پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے،”
وانگ ای نے کہا، اور اس بات پر زور دیا کہ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
وانگ ای نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی حمایت پر چین کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام حل طلب معاملات، خصوصاً سرحدی تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
علاقائی امن اور اقتصادی تعاون پر زور
چینی وزیر خارجہ نے خطے میں جامع اور طویل مدتی جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے بنیادی حل باہمی احترام اور مذاکرات سے تلاش کیے جائیں۔
وانگ ای نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کو صنعت، زراعت، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے، اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو بھی مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔
کمیونسٹ پارٹی رہنما سے ملاقات
اس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سینئر رہنما یو جیان چاؤ سے ملاقات کی، جس میں دونوں فریقین نے سیاسی جماعتوں کے درمیان روابط مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کے بنیادی مفادات اور خودمختاری پر چین کی مسلسل حمایت کو سراہا، جس پر یو جیان چاؤ نے کہا:
"چین پاکستان کا آئرن برادر ہے اور ہمارے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات اولین ترجیح ہیں۔”
تجزیہ: بھارت کے لیے ایک واضح پیغام
چین نے ایک بار پھر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں یکطرفہ جارحیت کی بجائے سفارتی بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کی علاقائی سالمیت کی حمایت اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کی حمایت، بھارت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اگر وہ کسی بھی قسم کی یکطرفہ کارروائی کی کوشش کرے گا تو بیجنگ کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرے گا۔
**خلاصہ : چین نہ صرف پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، بلکہ وہ بھارت کو سفارتی سطح پر بھی گھیرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔