ویب ڈیسک: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستانی فوج کبھی بھی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے انہوں نے فتنہ الخوارج قرار دیا، کو ملک پر اپنی انتہا پسندانہ سوچ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
اسلام آبادمیں ملک بھرکی یونیورسٹیوں کےطلباکےوفدسےخطاب کرتےہوئےسپہ سالارنےکہاہم کبھی بھی اس طرح کے گمراہ گروہ کو اپنے ملک پر اپنے نظریات تھوپنے نہیں دیں گے۔ آرمی چیف کے اس خطاب کی ویڈیو بعد میں قومی میڈیا پر جاری کی گئی، جس میں پاکستانی فوج کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ
پاکستان کو افغانستان میں 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے مغربی سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، اور گزشتہ سال دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان چھ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آرایس ایس) کے مطابق، 2024 میں 1500سے زائد شہری، سیکیورٹی اہلکارشہیدجبکہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
جنرل عاصم منیر نے واضح کیا کہ پاکستانی فوج روزانہ کی بنیاد پر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور وہ ان کے مذہب کے بارے میں گمراہ کن خیالات کو مسترد کرتی ہے۔
پاکستانی فوج کا خواتین کے حقوق پر مؤقف
اپنے خطاب میں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دہشت گردوں کی جانب سے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر شدید تنقید کی۔
"اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے ماں، بیوی اور بہن کے طور پر خواتین کو عزت و احترام دیا ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ان کے حقوق چھینے۔ سپہ سالارنےنےدہشت گردوں کی جانب سے خواتین کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی شدید مذمت کی۔
پاکستانی فوج کو قوم کی حمایت حاصل ہے
جنرل عاصم منیر نے پاکستان کے روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں سے ملاقات انہیں یقین دلاتی ہے کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
انہوں نے پاکستانی فوج کی وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوج میں نسلی اور علاقائی تفریق کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
انہوں نےکہاہم نہیں دیکھتے کہ کون پشتون، سندھی، بلوچی یا پنجابی ہے۔ ہم سب ساتھی فوجی ہیں اور ایک ساتھ لڑتے ہیں۔ ہمارے لیے صرف ‘پاکستانیت’ اہم ہے، اور ہمیں اس پر فخر ہے۔
پاکستانی فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں
آرمی چیف نے واضح کیا کہ پاکستانی فوج اس وقت فسادیوں اور انتہا پسندوں کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہی ہے۔
انہوں نےکہایہ دہشت گرد خود کو مجاہد کہتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ خوارج ہیں، جو اسلام کی اصل تعلیمات سے بھٹک چکے ہیں اور اپنی مرضی سے مذہب کی تشریح کر رہے ہیں، جو اسلام میں قابل قبول نہیں۔
تاہم سپہ سالارنے کہا کہ اگر دہشت گرد توبہ کر کے ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیں تو ان پر رحم کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی فوج کا عزم
آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک قوم، خاص طور پر نوجوان نسل، پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑی ہے، ملک کا دفاع مضبوط رہے گا۔
انہوں نےکہاپاکستانی فوج، انشاء اللہ کبھی کمزور نہیں ہوگی۔ ہم قربانی کے جذبے کے ساتھ لڑتے ہیں۔
نتیجہ
پاکستان میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر، آرمی چیف کے بیانات پاکستانی فوج کے دہشت گردی کے خلاف عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ انتہا پسندی کے خاتمے کی یہ جنگ جاری ہے تاکہ ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج جیسے گروہ اپنی شدت پسند سوچ ملک پر مسلط نہ کر سکیں۔