Date: July 11, 2025 | NewsMakers Web Desk
ویب ڈیسک: بھارت کی 25 سالہ ابھرتی ہوئی ٹینس کھلاڑی رادھیکا یادیو کو اُن کےاپنےوالد نےبڑی بےرحمی سےگولیاں مار کر قتل کر دیا۔ یہ واقعہ جتناافسوسناک ہےوہیں اس کی وجہ سن کربھی آپ حیران رہ جائیں گے۔
بیٹی کی دولت، سوشل میڈیا پر شہرت،ایک میوزک ویڈیو!
بھارتی میڈیاکےمطابق،رادھیکا یادیو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی ٹینس ایونٹس میں بھی بھارت کی نمائندگی کر چکی تھیں۔ وہ گروگرام (نئی دہلی کاقریبی پوش علاقہ گڑگاؤں) میں اپنے والد کے ساتھ رہتی تھیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ پولیس کاکہناہےگھر میں اس وقت صرف رادھیکا اور ان کے والد موجود تھے جب دیپک یادیونے اپنی بیٹی کو تین گولیاں ماریں۔
خبر پولیس تک کیسے پہنچی؟
گولیاں لگنے کے بعد رادھیکا کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیالیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ اسپتال انتظامیہ نے پولیس کو مطلع کیا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے قاتل والد کو گرفتار کر لیا گیا اور واردات میں استعمال ہونے والا ریوالوربھی پولیس نےبرآمد کر لیا۔
اصل مسئلہ انسٹاگرام یا کچھ اور؟
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، سوشل میڈیا پر رادھیکا کی سرگرمیاں، خاص طور پر انسٹاگرام ریلزاور ایک میوزک ویڈیو، تنازعے کی بنیادی وجہ بنی۔ پولیس ترجمان سندیپ کمارکےمطابق ایک سوشل میڈیا پوسٹ پرباپ بیٹی میں تکرارشروع ہوئی جس کےبعدوالدنےطیش میں آکربیٹی پرفائرنگ کردی۔
مزید تحقیقات میں پتاچلاکہ رادھیکا نے حال ہی میں ایک لو سونگ "کارواں” میں بھی کام کیا تھا، جو گلوکار "انعام” نے تیار کیا تھا۔ یہ ویڈیو وائرل ہو چکی ہے اور کچھ رپورٹس کے مطابق، اسی ویڈیو نے جلتی پرتیل کاکام کیا۔
بھارتی کرکٹ ٹیم پرنوٹوں کی بارش
غیرت یا حسد؟ – اصل کہانی
پولیس کے مطابق، دیپک یادیو اپنی بیٹی کی معاشی خودمختاری اور کامیابی سے خوش نہیں تھے بلکہ حسد کا شکار تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، دیپک کو اکثر طعنہ دیا جاتا تھا کہ وہ بیٹی کی آمدنی پر پل رہا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، دیپک نے اعتراف کیا کہ وہ "اپنی تذلیل کو مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔” ان کا بیٹی سے مطالبہ تھا کہ وہ اپنی ٹینس اکیڈمی بند کر دے، لیکن جب رادھیکا نے انکار کیا توپھر یہ المناک واقعہ پیش آیا۔
یہ محض ایک خاندانی تنازعہ نہیں، بلکہ ایک سوالیہ نشان بھی ہے ہمارے معاشرتی رویّوں پر، جہاں بیٹی کی کامیابی بعض اوقات والد کی انا پرہتھوڑےبرسانےلگتی ہے۔ رادھیکا کا قتل صرف جرم نہیں،ایک المیہ بھی ہے۔