Home / صحافی اورٹاوٹ میں بنیادی فرق

صحافی اورٹاوٹ میں بنیادی فرق

Difference between journalist and tout

Thursday, 27 August 2026 | Web Desk

الیکٹرانک میڈیاکی آمدسےپہلےکی بات ہے ۔ صحافی بڑی سےبڑی خبربھی بریک کرتےتوزیادہ سےزیادہ ذمہ دارذرائع کاحوالہ دیتےاوربس۔ ان کافوکس خبرکےذرائع سےزیادہ خبرپرہوتا۔ یہی وجہ ہےکہ اس دورمیں خبرڈسکس ہوتی تھی،خبرکےذرائع نہیں ۔

اب الیکٹرانک میڈیااورسوشل میڈیاکادورہے،نیوزچینلزکےساتھ ساتھ صحافیوں اورنیوزاینکرزکےدرمیان ایک دوسرےسےآگےنکلنےکی دوڑلگی ہوئی ہے ۔ چونکہ وقت کم اورمقابلہ سخت ہےاس لئےخبردینےکااندازبھی بدل گیاہے ۔

ایک اینکرنماصحافی سوشل میڈیاپرایک ویڈیواپ لوڈکرتاہےجس میں وہ بڑےفخرسےیہ کہتاپایاجاتاہے: "ناظرین آج میں آپ کےساتھ ایک بہت بڑی خبربریک کرنےوالاہوں” اوریہ دعویٰ وہ کچھ اندازسےکرتاہےکہ جیسےاسےسانس چڑھاہواہے۔ شایدیہ تاثردینامقصودہوتاہےکہ خبردینےوالےنےدروازےپرہی پرچی پکڑاکےکہاکہ بھاگ کےجاواوراسےبریک کردو ۔

پھروہ کہتاہے: دوستو، کچھ دیرپہلےایک طاقتوراورفیصلہ سازشخصیت نےمجھےاپنےدفتربلایا ۔ پرتکلف لنچ کروایا،اچھی سی کافی بھی پلوائی اوراس کےبعدانہوں نےبتایاکہ عمران خان کوجب ہسپتال لایاگیاتووی بالکل ہشاش بشاش تھے ، ڈاکٹرزکےپینل نےان کامکمل چیک اپ کیا، ان کابلڈٹیسٹ بھی ہوا ۔۔ اس دوران خان صاحب نےمینگوجوس پینےکی خواہش ظاہرکی جوپوری کی گئی ۔ ٹیسٹ وغیرہ کرنےکےبعدعمران خان کودوگھنٹےتک انڈرآبزرویشن رکھاگیااوراس کےبعدانہیں واپس جیل بھیج دیاگیا۔

حیران کن طورپران صاحب کےتھوڑی ہی دیربعدصحافی ہونےکادعویٰ کرنےوالےایک اوراینکرکی ویڈیواپ لوڈہوتی ہے، جس میں وہ موصوف بڑاپکاسامنہ بناکرکہتےہیں : ابھی ابھی ایک انتہائی طاقتوراورپالیسی سازشخص سےملاقات کرکےآرہاہوں ۔ یہ ملاقات تقریباایک گھنٹہ جاری رہی جس میں ہم نےاکھٹےدوپہرکاکھاناکھانا ۔ کھانےکےبعدچائےکادورچلااوراسی دوران اس شخصیت نےمجھےبتایاکہ عمران خان کوجب ہسپتال لایاگیاتوان کی طبیعت کچھ بوجھل سی تھی ۔ ڈاکٹرنےان کاتفصیلی چیک اپ کیا، کچھ ٹیسٹ بھی کئے۔ اسی دوران خان صاحب نےایپل جوس پینےکی خواہش ظاہرکی ، ان کیلئےباہرسےایپل جوس منگوایاگیا۔ اس کےکچھ دیربعدانہیں واپس جیل بھیج دیاگیا۔

تودیکھاآپ نےخبردینےکااندازکتنابدل گیاہے لیکن یہاں آپ کوایک بنیادی فرق سمجھناہوگا ۔ جب ایک صحافی ایک جینوئن صحافی خبربریک کرتاہےتووہ اس کاکریڈٹ لیتاہےکیونکہ وہ خبراس نےاپنی محنت سےکھودکرنکالی ہے ۔

دوسری جانب ہیں نام نہادصحافی ہیں جن کامیں نےاوپرذکرکیا ۔ یہ لوگ جب خبردیتےہیں توکریڈٹ لیتےنہیں بلکہ کریڈٹ دیتےہیں کیونکہ وہ خبران کی ہےہی نہیں ، وہ تومکمل ایڈٹ کرکےانہیں دی گئی ہے، یہ بس اسےپڑھنےکی زخمت کرتےہیں ۔

اسی لئےان جیسوں کومیں کہتاہوں کہ بھائی صاحب آپ صحافی نہیں ، ٹاوٹ نہیں ۔ آپ صحافت کےنام پرٹاوٹی کررہےہیں ۔ اب پتانہیں یہ ٹاوٹی آگےجاکرکیاشکل اختیارکرتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ صحافت کوٹاوٹوں اورٹاوٹی دونوں سےمحفوظ رکھے ۔۔ آمین ۔

یہ بھی چیک کریں

Hamid Mir breaking news about Imran Khan treatment

عمران 15ستمبرسےپہلےجیل سےباہر؟

Sunday, 23 August 2026 | Monitoring Desk ملک کےمعروف صحافی حامدمیرنےبڑی خبردےدی ۔ کہتےہیں عمران …