Wednesday 28 August, 2026 | Monitoring Desk
اسلام آباد کےپمزہسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو ذرائع کےمطابق پمز اسپتال کی نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ائیرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی۔ آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، لیڈی ڈاکٹر صرف ایک کو بچاسکی جب کہ 15 جاں بحق ہوگئے۔
ضلعی انتظامیہ کےمطابق ، آگ پمز اسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلورپرلگی،اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں، امدادی کارروائیوں میں فائربریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور4 ایمبولینسزنےحصہ لیا،حادثے میں 14 بچے مکمل جھلس گئے۔
غم سےنڈھال والدین نے الزام لگایا ہے کہ جس وقت آگ لگی اس وقت انکیوبیشن سینٹر میں کوئی نہیں تھا، ہمیں صرف یہ بتا دیا گیا کہ بچے جاں بحق ہو گئے۔
سانحہ پمز میں مرنے والے ایک بچے کے والد کا کہنا ہےفائربریگیڈ اور ایمبولینس آگ لگنے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی، والدین نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔
والدین کاالزام ہےکہ نرسری میں نہ گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی کوئی دوسرا عملہ موجود تھا،جبکہ این آئی سی یوکادروازہ بھی لاک تھا،واقعہ کےدوگھنٹےبعد ریسکیواور4 گھنٹےبعد پولیس پہنچی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہونے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آگ لگنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات کردی۔