ویب ڈیسک ۔۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی پولیس نےوزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کے خلاف "انصاف میں رکاوٹ ڈالنے”کے الزام میں تحقیقات کااعلان کیاہے۔
انادولوایجنسی کی رپورٹ کےمطابق ،اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ کارپوریشن نےاطلاع دی کہ پولیس سارہ نیتن یاہو پرگواہ کوہراساں کرنےاورانصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنےکیلئےتحقیقات شروع کرنےجارہی ہے۔
یہ اقدام چینل 12 کے پروگرام "اوودا” پر نشر ہونے والی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے بعد کیا گیا، جس میں سارہ نیتن یاہو کے ان الزامات میں ملوث ہونے کے شواہد پیش کیے گئے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے مقدمے میں پراسیکیوٹر، لیات بن آری، اور ایک گواہ ہداس کلائن کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کیا۔
اسرائیلی اٹارنی جنرل امیت ایسمن اور حکومت کی قانونی مشیر گالی بہاراو میارا نے ایک بیان جاری کیا، جس میں تصدیق کی گئی کہ نشریات کے بعد پولیس کو تحقیقات کی ہدایت دی گئی ہے۔ سارہ نیتن یاہو کو کیس میں پوچھ گچھ یا گواہی دینے کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔
اس فیصلے کو اسرائیلی حکومت کے اراکین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جن میں وزیر انصاف یاریو لیوین، قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر، اور کنیسٹ کے اسپیکر امیر اوہانا شامل ہیں۔ انہوں نے بہاراو میارا پر سیاسی وجوہات کے لیے قانون کو استعمال کرنےکاالزام لگایا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو منگل کو بدعنوانی کے الزامات کے جواب میں چھٹی بار عدالت میں پیش ہوئے۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2023 میں رشوت، دھوکہ دہی، اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات کے حوالے سے گواہی دینا شروع کی، جو 2019 میں ان پر لگنے والے الزامات کے بعد پہلی گواہی تھی۔
نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی 2020 میں شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے۔ نیتن یاہو ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک سیاسی مہم کا حصہ ہے۔
گزشتہ ماہ، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔