Sunday, 08 March 2026 | Monitoring Desk
اٹھارہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نےاپنی حکومت کوایک رپورٹ پیش کی ہےجس میں کہاگیاہےکہ بڑےپیمانےپرحملوں کےباوجودایران میں رجیم کاامکان نہیں۔
معروف امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں موجودہ امریکی انتظامیہ کوخبردار کیا گیا ہےکہ بڑے پیمانےپرفوجی حملےبھی موجودہ ایرانی سیٹ اپ کوختم کرنےمیں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
اخبار کے مطابق اس رپورٹ کونیشنل انٹیلیجنس کونسل کے سینئر تجزیہ کاروں نےمرتب کیاہے، جو امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مشترکہ معلومات کی بنیاد پر خفیہ رپورٹس تیارکرتے ہیں۔ ایران کےحوالےسےیہ رپورٹ اسرائیل اور امریکا کے حالیہ حملے شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلےمکمل کی گئی تھی۔
حیرت انگیزطورپریہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف حملوں کاایک سلسلہ شروع کررکھاہے۔ امریکی صدربارہایہ کہہ چکےہیں کہ ایران کےہتھیارڈالنےتک اس پرحملےجاری رہیں گے۔ ایک بیان میں توصدرٹرمپ اس حدتک بھی دھمکی دےچکےہیں کہ ایران یاتوہتھیارڈالےیااسےمکمل تباہ کردیاجاءےگا۔
دوسری جانب اس انٹیلی جنس رپورٹ میں کہاگیاہےکہ ایران کاسیاسی ومذہبی سٹرکچرمضبوط بنیادوں پرقاءم ہےاورسپریم لیڈرکی شہادت کےباوجودیہ پوری طرح قاءم ہے۔
امریکی حکام کے مطابق توقعات کےبرعکس ایران میں اب تک کوئی بڑے پیمانےپرعوامی بغاوت یاحکومت کے اندرایسا فرق نہیں آیا جس سے نیا نظام قائم ہو۔ ایران پر اس کی مذہبی اور فوجی قیادت کا اب بھی مکمل کنٹرول ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی سینئر محقق کے مطابق ٹرمپ کے آگے سر جھکانا ایران کی قیادت کے نظریات کے خلاف ہوگا،یہ لوگ امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت کو اپنا اصول سمجھتے ہیں۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سوزان مالونی کے مطابق ایران کے اندر کوئی ایسی طاقت موجود نہیں جو حکومت کی باقی ماندہ طاقت کا مقابلہ کر سکے، ملک کے اندر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔ ایرانی فورسزملک میں نظم وضبط قاءم رکھنےکی پوزیشن میں ہیں اورکسی بھی طرح کےحالات کامقابلہ کرسکتی ہیں۔