ویب ڈیسک: پاکستان کےہاتھوں ملنےوالی ہزیمت کےبعدبھارتی حکومت اورانتہاپسندہندواپنےحواس اورہوش دونوں کھوبیٹھے۔ شکست کاغصہ پاکستان کےدوست ملکوں پراتارناشروع کردیا۔
بھارت کےخلاف حالیہ لڑائی میں ترکی کی جانب سےپاکستان کےحق میں بیانات نےبھارتیوں کوغصےسےپاگل کردیا۔ کہتےہیں اپنےمیزائل ’براہمسترا‘سےحملہ کرکے6منٹ کےاندرترکی کوتباہ کردیں گے۔
یہ سب دھمکیاں بلکہ گیدڑبھبکیاں ایک بھارتی نیوز ایجنسی میں شائع ہونے والے مضمون کے ذریعے دی گئی ہیں جس کو اسپانسر اس کی بدنام زمانہ دہشتگردی اور جاسوسی کی ایجنسی ’را‘نےکیاہے۔
ترکی پراپناغصہ اتارتےہوئے،بھارتی ایوی ایشن سکیورٹی واچ ڈاگ بی سی اے ایس نے جمعرات کو ترکی کی گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنی سیلیبی ائیرپورٹ سروسز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو دی گئی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی، جووہ ممبئی، دہلی، کوچی، کنور، بنگلور، حیدرآباد، گوا، احمد آباد اور چنئی کےہوائی اڈوں پر خدمات فراہم کرتی ہے۔
یہ اقدام ترکی کی جانب سے پاکستان کی کھلی حمایت اور بھارت کی بعض پالیسیوں پر تنقید کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ترکی، چین کے ساتھ ان ممالک میں شامل رہا ہے جنہوں نے پاکستان کو جدید ڈرونز فراہم کیے،جو مبینہ طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران استعمال کیے گئے۔
متنازع مضمون میں بھارت کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اگنی فائیو کا بھی ذکر کیا گیا، جو 29,400کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کسی بھی ہدف کو چند منٹوں میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ترکی جیسے ملک کے خلاف اس نوعیت کے بیانات علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔
بھارت ممکنہ طور پر کسی دور دراز کے دشمن جیسے ترکی کے خلاف براہموس میزائل کا استعمال کسی دوسرے ملک کے خودمختار پانیوں میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز یا جنگی بحری جہاز سے لانچ کر کے کر سکتا ہے جو انقرہ کے قریب واقع ہو۔