یوٹرن تواچھےہوتےہیںاسلام علیکم دوستو۔۔ قسمت کےکھیل بھی نرالےہیں،کب کیاہوجائے،پتاہی نہیں چلتا،یوٹرن کوہی لےلیں،کیسےبھاگ جاگےہیں ، کل تک جوپسپائی کااستعارہ تھا،آج حکمت عملی کی علامت بن گیاہے۔ کل تک جوموقع پرستی اورسمجھوتےکاسنگ میل تھا،آج منزل پرپہنچنےکاشارٹ کٹ بنکرسامنےآیاہے۔ عجیب بات ہے،لیکن کیاکریں، دنیاہےہی ایسی ،علامہ اقبال کہتےہیں:آنکھ جوکچھ دیکھتی ہےلب پہ آسکتانہیںمحوحیرت ہوں کہ دنیاکیاسےکیاہوجائےگی۔عمران خان تواس شخص کولیڈرماننےپرہی تیارنہیں جو یوٹرن نہیں لیتا۔۔۔۔۔(چند سیکنڈزکاوقفہ)۔۔۔ کیا کہوں ۔۔ آئی ایم سپیچ لیس۔۔ لیکن پھرایک خیال میری گدی پرچپت رسیدکرکےکہتاہے۔۔حیران کیوں ہوتےہو،جوآدمی یوٹرن کی سیڑھی پرپیررکھتے۔۔۔رکھتےوزارت عظمیٰ کےمنصب پر پہنچاہو،وہ اس کےعلاوہ اورکیاکہےگا۔؟۔لیکن خان صاحب ، آپ بھول گئے ۔۔ یہ سیڑھی …
مزید پڑھیں »بلاگ
وکلا کی سماجی افادیت پر سوال
میرے گھر میں دو وکیل ہیں‘ میرے دوستوں میں دس بارہ وکیل ہیں‘ یہ سب اصلی ڈگری والے‘ ادبی ذوق و سماجی شعور رکھتے ہیں۔ پنجاب کارڈیالوجی پر جن وکلا نے حملہ کیا وہ کوئی اجنبی لوگ ہیں جنہیں نہ میں جانتا ہوں نہ معاشرہ ان کی افادیت سے واقف۔ ہم نے ایس ایم ظفر‘ عابد منٹو‘ نعیم بخاری‘ عارف چودھری جیسے لوگ دیکھ رکھے ہیں۔ تلخ بات کا دلیل سے جواب دینے والے‘ شعر کہہ کر دوسرے کو خاموش کرا دینے والے‘ ایک کتاب کے حوالے پر درجنوں کتابوں کا حوالہ دینے والے‘ سماج سے رابطہ رکھنے والے اور …
مزید پڑھیں »