Friday, 23 October 2026 | Web Desk
پنجاب حکومت کی دوخواتین کی ایک دوسرےکےخلاف بیان بازی ۔ وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری اورچیئرپرسن وومن پرٹیکشن اتھارٹی پنجاب حناپرویزبٹ آمنےسامنےآگئیں۔
بات حناپرویزبٹ کےایک ٹویٹ سےآگےبڑھی ۔ حناپرویزبٹ نےملتان میں یتیم بچےوسیم عباس کےقاتل کی مبینہ پولیس مقابلےمیں ہلاکت پرٹویٹ کیاجس میں لکھاکہ مریم نوازکی حکومت میں انصاف فوری ملتاہے ۔
جیونیوزکےپروگرام آج شاہزیب خانزانہ کےساتھ میں اینکرشاہزیب نےاپنےپروگرام میں جب عظمیٰ بخاری کےسامنےاس ٹویٹ پرتبصرہ کرنےکیلئےکہاکہ عظمیٰ بخاری نےدبےلفظوں میں حناپرویزبٹ پرتنقیدکی اوراس پوسٹ کوحناکی ناسمجھی قراردیا۔ عظمیٰ بخاری نےیہ بھی کہاکہ بہت بارایساہواکہ حناپرویزکی وجہ سےپارٹی کوشرمندگی اٹھاناپڑی ۔
حناپرویزبٹ نےعظمیٰ بخاری کوجواب دیتےہوئےکہاکہ پنجاب حکومت کوالزام دیانہ کسی ادارےپرتنقیدکی ۔ مجھ پرعظمیٰ بخاری کی تنقیدبےجاہے۔ مجھ پرتنقیدسےپہلےمتاثرہ خاندانوں سےپوچھیں وہ کس دکھ اورکرب سےگزررہےہیں ۔
وضاحتی بیان: میں نے یہ ٹویٹ کہ ’’یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، یہاں فوری انصاف ملتا ہے‘‘ اپنی ذاتی رائے کے طور پر کیا تھا۔ یہ نہ حکومت کے خلاف کوئی چارج شیٹ تھی اور نہ کسی ادارے پر تنقید۔ میرے خیال میں اس پر ہونے والی تنقید غیر ضروری ہے۔ میں اپنی کولیگ عظمیٰ بخاری کا احترام کرتی ہوں۔ بطور وزیر اطلاعات حکومت کی پالیسی واضح کرنا اور اس کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے، لیکن میرے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دی گئی رائے کو ناسمجھی قرار دینا یا اس سے حکومت کی شرمندگی جوڑنا غیر ضروری تھا۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ میری رائے سے حکومت کو شرمندگی ہوئی۔
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) October 22, 2026