Home / آبنائےہرمزاتنی اہم کیوں ہے؟

آبنائےہرمزاتنی اہم کیوں ہے؟

Strait of of Hormuz: economic and strategic importance

Friday, 27 March 2026 | Web Desk

ایران کے خلاف امریکہ اوراسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں نے دنیا کی سب سےحساس اورنازک چوکیوں میں سے ایک — آبنائے ہرمزکی اہمیت کوکھول کربیان کردیا ہے۔ ایران کےخلاف امریکی اوراسرائیلی اقدامات نے عالمی توانائی کی سلامتی، تیل کی قیمتوں اوراقتصادی استحکام کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

جنگ کےبعد سے، ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کررکھاہےاوردھمکی دی ہےکہ گزرنےوالے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایاجائےگا۔ عالمی میڈیاسےآنےوالی خبروں کے مطابق، تقریباً 2,000 بحری جہاز اور عملے کے 20,000 ارکان اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب پھنسے ہوئے ہیں، جوصورتحال کی مزیدسنگینی کی طرف اشارہ کرتےہیں۔ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نےاس پر تشویش کا اظہار کیا ہے، سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیوز نے عالمی شپنگ صنعت کودرپیش بحران کو روکنے کے لیے محفوظ نیوی گیشن راستوں کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈومنگیوز نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آبنائےہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے فراہم کردہ ضمانتیں ناقابل عمل معلوم ہوتی ہیں۔ انہوں نے پھنسے ہوئے جہازوں پر پیدا ہونے والےانسانی بحران پر بھی روشنی ڈالی اوردنیا سےاس کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

آبنائے ہرمز کیا ہے؟

آبنائے ہرمز ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے لیے اہم راستے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

  • لمبائی: 104 میل (167 کلومیٹر)
  • چوڑائی: 60 میل (97 کلومیٹر)
  • دنیا کی اہم ترین سمندری چوکیوں میں سے ایک

قریبی ممالک

*ایران
*عمان

  • متحدہ عرب امارات
    *سعودی عرب
    *کویت
    *عراق
    *قطر

آبنائے ہرمز پرکس کاکنٹرول ہے؟

آبنائے بین الاقوامی قانون کے تحت ایران اور عمان کے درمیان مشترکہ ہے۔ ایران چونکہ ایک مضبوط فوجی قوت رکھتاہےاس لئےیہاں اس کاکنٹرول زیادہ سمجھاجاتاہے،آبی گزرگاہ ایک بین الاقوامی راستہ سمجھا جاتا ہے، جس سے تجارتی جہازوں کو مفت گزرنے کی اجازت ہے۔

اقتصادی اور اسٹریٹجک اہمیت

عالمی توانائی کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت

کلیدی اعدادوشمار

  • روزانہ 20-21 ملین بیرل تیل آبنائے سے گزرتا ہے۔
  • عالمی تیل کی کھپت کی ~ 20% نمائندگی کرتا ہے۔
  • سمندری تیل کی تمام تجارت کا ایک تہائی حصہ

یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ تیل کی عالمی قیمتوں اور منڈیوں پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔

جہاز رانی کا بحران: ہزاروں جہاز پھنس گئے

موجودہ صورتحال تشویشناک :

  • آبنائے کے قریب 2000 جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔
  • عملے کے تقریباً 20,000 ارکان متاثر ۔
  • تجارتی جہاز رانی کے راستے بری طرح متاثر ۔

آئی ایم اومحفوظ نیویگیشن کو یقینی بنانےکے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ طویل بندش **عالمی شپنگ بحران ** میں تبدیل ہوسکتی ہے، جس سے دنیا بھر میں تجارت، سپلائی چین اور معاشی استحکام متاثر ہوگا۔

بحری جہازوں کی جانب سےایران کولاکھوں ڈالردینےکاانکشاف

معروف برطانوی اخبارفنانشل ٹائمزکی رپورٹ کےمطابق ، ایران جنگ شروع ہونےسےپہلےاس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھےلیکن جنگ کے آغاز کے بعد یہ تجارتی گزرگاہ عملاً بند ہے،یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔

اخبارکاکہناہےبعض جہازوں نے آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادا کیے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علاالدین بروجردی نے بھی سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرنے والا ہر جہاز 20 لاکھ ڈالر فیس ادا کر رہا ہے۔

بندش کا ممکنہ اثر

تیل کی قیمتوں میں اضافہ

  • قیمتیں $120 فی بیرل سے زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔
  • دنیا بھر میں ایندھن نمایاں طور پر زیادہ مہنگا ہوجائےگا۔

تجارتی رکاوٹ

  • عالمی سپلائی چینز کا خاتمہ
  • شپنگ میں تاخیر ۔
  • بیمہ اور مال برداری کے اخراجات بڑھنےکاخدشہ۔

عالمی اقتصادی جھٹکا۔

  • عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ۔
  • ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر۔
  • توانائی پر منحصر معیشتوں پرشدیددباؤ۔

ہندوستان میں ایندھن کا بحران

  • کئی ریاستوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کی اطلاع ہے۔
  • ایندھن کے اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں، انتظار کے اوقات میں نمایاں اضافہ ۔
  • ہندوستان اپنا 50% پیٹرولیم آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد کرتا ہے، جو اس کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے

پاکستان پر اثرات

مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار اور ایران سے قربت کی وجہ سے پاکستان بھی براہ راست متاثر ہے۔

معاشی اثرات

*بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں اور مہنگائی

  • نقل و حمل اور بجلی کے اخراجات میں اضافہ
    تجارتی خسارے اور غیر ملکی ذخائر پر دباؤ

پاکستان میں موجودہ اقدامات

*حکومت نے لاگت کو کنٹرول کرنے کے لیے کفایت شعاری مہم شروع کی ہے۔

  • ایندھن کی کھپت کو کم کرنے اور معاشی دباؤ کو منظم کرنے کے لیے نرم لاک ڈاؤن کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔

اسٹریٹجک خدشات

*علاقائی عدم استحکام

  • تجارتی رکاوٹیں
  • توانائی کے تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرات

تاریخی اور تزویراتی اہمیت

تاریخی طور پر آبنائے ہرمز ہمیشہ سے ایک اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔ آج، یہ اور بھی اہم ہے، تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کو عالمی منڈیوں سے جوڑ رہا ہے۔ اس کی اہمیت نہ صرف تجارت بلکہ جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ میں بھی ہے، کیونکہ بڑی عالمی طاقتیں اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی نگرانی اور حفاظت کرتی ہیں۔

توانائی بچت مہم : وزیراعظم نےبڑی پابندی لگادی

عالمی ٹاسک فورس

ایک خبرکےمطابق عالمی سطح پرایک ٹاسک فورس قائم کی جارہی ہےجوآبنائےہرمزکونہ صرف کھلوائےگی بلکہ اس کی حفاظت کوبھی یقینی بنایاجائےگا۔ متحدہ عرب امارات بھی اس ٹاسک فورس میں شامل ہوگا۔

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at zaheer.ahmad.lhr@gmail.com

یہ بھی چیک کریں

Chakwal incident, will Hania Get Justice?

کیاچکوال کی ہانیہ کوانصاف ملےگا؟

Thursday, 25 June 2026 چکوال میں سی سی ڈی کےہاتھوں معصوم بچی کاقتل قانون کےاندھےاورشتربےمہاراستعمال …