تاریخ: 4 جون 2025 | تحریر: نیوز میکرز ڈیسک
یوراگوئے سے تعلق رکھنے والے 70 سالہ حاجی لوئس ابی رشید، جنہیں خادم حرمین شریفین کے پروگرام برائے حج و عمرہ کے تحت سعودی عرب مدعو کیا گیا، نے اپنی زندگی کےپہلی فضائی اور روحانی سفرحج کی داستان شیئرکی۔
اسلامی امور کی وزارت کے زیر نگرانی اس پروگرام کے ذریعے منتخب ہونے کے بعد، رشید نے اپنے اس مقدس سفر کو "سکون اور روحانی طمانیت سے بھرپور” قرار دیا — ایک ایسا سفر جو ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کی تکمیل کا ذریعہ بنا۔
انہوں نے کہا:
"میں جب اس مقدس سرزمین پر پہنچا تو میرے جذبات الفاظ میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ میں عمرہ ادا کرنے اور پہلی بار خانہ کعبہ دیکھنے جا رہا تھا، جسے اب تک صرف ٹی وی پر دیکھا تھا۔ میرا دل اس مقدس مقام کے لیے بے قراری سے لبریز تھا۔”
رشید نے مزید کہا:
"حج ایک خواب ہے، خاص طور پر نو مسلموں کے لیے۔ جب مجھے اس پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا تو میرے جذبات کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، اور پھر سعودی قیادت کے لیے جنہوں نے میرے اور دنیا بھر کے بہت سے مسلمانوں کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔”
رشید نے بتایا کہ ان کا سفرِ اسلام 20 سال قبل شروع ہوا، جب ایک مسلمان دوست نے انہیں تین ماہ کے دوران اسلام کے بنیادی عقائد سے روشناس کرایا۔ اس دوران انہوں نے قرآنِ پاک اور نماز کے بارے میں سیکھا اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلام ہی سچا دین ہے۔
"میں نے اسلام قبول کیا، حالانکہ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میں مسلمان بن جاؤں گا،” رشید نے کہا۔
"لیکن اللہ تعالیٰ نے میری رہنمائی فرمائی اور مجھے تاریکی سے نکال کر روحانی روشنی عطا کی۔ مجھے ایسا سکون اور اطمینان ملا جو پہلے کبھی نہ تھا۔ اسلام اعتدال، توازن، اور سکون کا مذہب ہے — اس میں کوئی شدت پسندی یا سختی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ہدایت دی اور مسلمانوں میں شامل کر لیا۔”
آخر میں رشید نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے پرخلوص کوششیں کر رہے ہیں، اور سعودی عرب کی ترقی، خوشحالی اور کامیابی کے لیے دعا کی۔