ویب ڈیسک: اسرائیل نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان پر "یہود مخالف آمر” ہونے کا الزام عائدکردیا۔ اسرائیلی وزیرخارجہ کایہ بیان ترک صدر کی جانب سے بظاہر صیہونی ریاست کی تباہی کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔ گیڈون ساعر نے دعویٰ کیا کہ اردگان "خطے کے لیے خطرناک” ہیں۔
استنبول میں عید الفطر کی نماز کے لیے ایک مسجد کے دورے کے بعد، اردگان نے کہا، "اللہ، اپنے نام ‘القهّار’ [’فاتح‘] کے صدقے، صیہونی اسرائیل کو تباہ و برباد کرے۔” انہوں نے مزید دعا کی، "ہم سب، جو وہاں (غزہ) ہونے والے واقعات دیکھ رہے ہیں، بھائیوں کی طرح متحد، مضبوط اور ثابت قدم رہیں، اور اللہ ہماری یکجہتی کو ہمیشہ قائم رکھے۔”
ان کے اس بیان پر اسرائیلی میڈیا اور سیاست میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ ساعر نے اپنی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پوسٹ میں ترکی زبان میں لکھا، "آمر اردگان نے اپنا یہود مخالف چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ جیسا کہ آج کل واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، اردگان خطے اور اپنے ہی عوام کے لیے خطرناک ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، "ہم امید کرتے ہیں کہ نیٹو اتحاد میں شامل ممالک اس حقیقت کو جلد از جلد سمجھیں گے۔”
یہ واقعہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان جاری سفارتی اور لفظی کشیدگی کی تازہ کڑی ہے، جو حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر چکی ہے—اور وسیع تر تناظر میں، اکتوبر 2023 سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے بعد سے کشیدہ تعلقات کا حصہ ہے۔
ترک وزارت خارجہ نے جمعہ کو لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا، "یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے اسرائیل کے مستقل خطرے کو ظاہر کرتے ہیں۔ عالمی برادری کو اسرائیل کی جانب سے خطے میں مستقل جنگ کی کیفیت پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔”
اسرائیلی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز اردگان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے انہیں منافقت کا مرتکب قرار دیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ "عالمی برادری کو بلند اخلاقی اقدار کا درس دیتے ہیں، جبکہ خود اپنے شہریوں پر جبر کرتے ہیں اور سیاسی مخالفین کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کرتے ہیں۔”