ویب ڈیسک: اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کی سربراہی میں منعقدہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس کےمطابق ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس کے خلاف سخت اقدامات کافیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں اعلیٰ قیادت کی شرکت
اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، دفاعی و حکومتی شخصیات اور سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا، جس کے مطابق قومی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے کے اہم نکات:
✅ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی شدید مذمت۔
✅ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ۔
✅ افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کے لیے ہمدردی کے اظہار کی مذمت۔
✅ دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اور ضروری قوانین کے نفاذ پر زور۔
✅ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کا بیانیہ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش۔
قومی اداروں کو مکمل آزادی دینے پر زور
کمیٹی نے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے میں مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتیں بڑھانے اور مزید وسائل فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اپوزیشن کی عدم شرکت پر افسوس
کمیٹی نے اپوزیشن کے بعض ارکان کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔
آرمی چیف کی دعا
اجلاس کے اختتام پر اسپیکر قومی اسمبلی نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے دعا کی درخواست کی، جس پر آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے دعا کروائی۔