ویب ڈیسک: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے 26 افراد میں سے 18 کا تعلق پاک فوج اور ایف سی سے ہے۔
حملہ اور آپریشن کی تفصیلات
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاک فوج اور ایف سی کی جانب سے کیے گئے کامیاب آپریشن میں 33 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے 26 افراد کو شہید کیا جبکہ فورسز نے 354 یرغمالیوں کو بازیاب کرایا، جن میں سے 37 زخمی تھے۔ آپریشن کے دوران کسی بھی مغوی کی جان نہیں گئی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق دہشت گرد کسی بھی مسافر کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ مسافروں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں سے ایک گروپ کو 11 مارچ کی رات چھوڑ دیا گیا، دوسرا گروپ 12 مارچ کی صبح فوج اور ایف سی کی کارروائی کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوا، جبکہ تیسرا گروپ 12 مارچ کی شام کلیئرنس آپریشن کے دوران چھڑایا گیا۔
بھارت اور افغانستان کے ملوث ہونے کا دعویٰ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی بھارت نے کی جبکہ اس کے تانے بانے افغانستان سے جڑتے ہیں۔ دہشت گردوں نے حملے سے قبل ایک ایف سی چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا، جس میں تین ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بھارتی میڈیا نے اس واقعے کی غلط رپورٹنگ کی اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔
آپریشن کی حکمت عملی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 11 مارچ کو دہشت گردوں نے آئی ای ڈی دھماکے سے ریلوے پٹڑی کو تباہ کیا اور جعفر ایکسپریس کو زبردستی روکا۔ 12 مارچ کو پاک فوج اور ایف سی نے علاقے کا محاصرہ کیا۔ اس دوران دہشت گردوں کے خلاف اسنائپرز کی مدد سے ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں مغویوں کو فرار ہونے کا موقع ملا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا گیا۔ اسپیشل سروسز(ضرار گروپ) نے یرغمالیوں کو خودکش حملہ آوروں سے نجات دلائی، جو مغویوں کے ساتھ گھل مل کر بیٹھے ہوئے تھے۔ دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھے اور ان کے پاس بیرون ملک سے لایا گیا اسلحہ بھی موجود تھا۔
نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ضروری
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر مکمل عمل درآمد کے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نکات میں کسی بھی مسلح گروہ کو ملک میں سرگرمیوں کی اجازت نہ دینا، دہشت گردی کے پروپیگنڈے کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر روکنا، دہشت گردوں کی مالی معاونت کو ختم کرنا، عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانا، انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی استعداد کار بڑھانا اور مدارس کی رجسٹریشن جیسے اقدامات شامل ہیں۔
لاپتا افراد کے معاملے پر مؤقف
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ لاپتا افراد کی تلاش حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت ہی انہیں لاپتا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کا مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی یہ مسئلہ پایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید وضاحت کی کہ لاپتا افراد کے مسئلے پر ایک کمیشن قائم ہے، جس کے پاس اب تک 10,405 کیسز آ چکے ہیں، جن میں سے 8,044 حل ہو چکے ہیں جبکہ 2,261 کیسز زیر تفتیش ہیں۔ بلوچستان میں 2011ء سے اب تک 2,911 لاپتا افراد کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 452باقی رہ گئے ہیں اور باقی کیسز حل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ امریکا، برطانیہ اور بھارت میں بھی پایا جاتا ہے۔ تاہم، دیگر ممالک میں لوگ اپنی حکومتوں اور افواج کے خلاف اس طرح نہیں اٹھ کھڑے ہوتے جیسے پاکستان میں بعض حلقے کرتے ہیں۔
نتیجہ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کا واحد مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔