ویب ڈیسک: پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ برطانیہ پاکستان کو 2 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنتے دیکھ رہا ہے اور اس میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق، جین میریٹ نے یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ ’لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ‘ (LIIBS) کے آٹھویں ایڈیشن سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان اور متحرک آبادی، اسٹریٹجک محلِ وقوع، مضبوط کاروباری بنیادیں اور قدرتی وسائل اسے ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت بناتے ہیں، اور برطانیہ ان ترقیاتی کوششوں میں پاکستان کا شراکت دار بننے کا خواہاں ہے۔
برطانوی معیشت کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ مالیاتی خدمات کا سب سے بڑا عالمی فراہم کنندہ ہے، جو کاروباری خدمات میں دوسرے اور تجارتی خدمات میں تیسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ قریبی معاشی تعلقات برطانیہ کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
ہائی کمشنر کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم تقریباً 4.4 بلین پاؤنڈ ہے، جسے 10 بلین پاؤنڈ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ان کی خواہش ہے کہ یہ حجم بڑھتے ہوئے 15 بلین پاؤنڈ تک پہنچے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ صحت، تعلیم، انجینئرنگ اور ریکوڈک جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ساتھ ہی، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے برطانیہ نے پاکستان میں 45 ملین ڈالر کا پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے، جس میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور صاف و سبز توانائی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
پاکستان کابزنس ویزاصرف24گھنٹےمیں
پاکستان میں کام کرناکسی چیلنج سےکم نہیں:دراز
جین میریٹ نے کہا کہ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق 2047 تک پاکستان کی معیشت پانچ گنا بڑھ کر 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، اور برطانیہ اس سفر میں ایک طویل المدتی شراکت دار بننے کے لیے پرعزم ہے۔
تقریب کے دوران "دی سمفنی آف ایکو سسٹمز” کے عنوان سے ایک کلیدی مکالمہ بھی منعقد ہوا، جس میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے سی ای او جہانگیر پراچہ، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے سی ای او جہانزیب خان، سسٹمز لمیٹڈ کے سی ای او آصف پیر، اباکس کی سی ای او فاطمہ اسد سعید، موبی لنک مائیکرو فنانس بینک کے سی ای او حارث ایم چوہدری، سائٹیک کے گروپ سی ای او عقیل احمد، اور ایچ بی ایل کے چیف انفارمیشن اینڈ ٹرانسفارمیشن آفیسر ابرار میر نے شرکت کی۔
مقررین نے ٹیکنالوجی، افراد اور اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت، ڈیجیٹل تبدیلی کی طاقت، اور ایک مربوط ایکو سسٹم کی تعمیر میں ان عناصر کے کردار پر روشنی ڈالی۔
آخر میں، جین میریٹ نے نٹ شیل گروپ کے بانی اور چیئرمین محمد اظفر احسن کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس سمٹ کے انعقاد اور پاکستان کی ترقی کے لیے دنیا بھر سے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔