ویب ڈیسک: آئندہ مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ممکنہ ریلیف سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت قابلِ ٹیکس سالانہ آمدن کی حد کو موجودہ 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کرنے پر غور کر رہی ہے، جب کہ ٹیکس سلیبز میں بھی رد و بدل کا امکان ہے۔ تاہم ان تجاویز کی حتمی منظوری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشروط ہوگی۔
حکام کے مطابق آئندہ بجٹ میں صرف نچلے ٹیکس سلیبز میں تبدیلی کی جائے گی، جبکہ زیادہ آمدن والے افراد کے لیے کسی ریلیف کی تجویز فی الحال زیر غور نہیں۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ریلیف کے لیے تین تجاویز پر غور جاری ہے، جن میں 50 ہزار روپے ماہانہ سے زائد تنخواہ لینے والوں کے لیے سالانہ آمدن کی حد بڑھانے کا امکان بھی شامل ہے۔
دس لاکھ پاکستانیوں کیلئےبیرون ملک روزگار
ڈیبٹ اورکریڈٹ کارڈہولڈرزکیلئےخوشخبری
اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم کو مزید سادہ اور آسان بنانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
بجٹ میں سالانہ 6 سے 12 لاکھ روپے آمدن والے افراد کو بھی ممکنہ ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حکومت پنشنرز کے لیے بھی نئی ٹیکس تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے، جن کے تحت:
- 8 لاکھ روپے سالانہ تک پنشن آمدنی پر 5 فیصد
- 8 سے 15 لاکھ روپے پر 10 فیصد
- 15 سے 20 لاکھ روپے پر 12.5 فیصد
- 20 سے 30 لاکھ روپے پر 15 فیصد
- اور 30 لاکھ سے زائد آمدن پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ابتدائی سفارشات ہیں، جن پر تفصیلی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔