مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ بلاول بھٹونےوفاقی حکومت کوآڑےہاتھوں لےلیا۔ کہااس حکومت کےپاس یکطرفہ اورمتنازعہ فیصلےکرنےکاکوئی مینڈیٹ نہیں ۔ ن لیگ نےکامیابی سےحکومت کرنی ہےتوفیصلےاتفاق رائےسےکرناہوں گے۔
انٹرنیٹ کی سلوسپیڈکولیکربلاول بھٹوکاکہناتھاکہ حکومت کبھی کہتی ہےسپیڈسلوہےتوکبھی کہتی ہےسمندرمیں فائبرآپٹک کٹ گئی ۔ میں پوچھتاہوں آخرایسی کونسی مچھلیاں ہیں جوصرف پاکستان کی انٹرنیٹ کیبل کھاناپسندکرتی ہیں۔
بلاول بھٹونےکہاتیزانٹرنیٹ ہرپاکستانی کاحق ہے۔سلوانٹرنیٹ کےساتھ ہم کیسےبیرونی سرمایہ کاری کوفروغ دےسکتےہیں ۔ اس حکومت نےفائروال لگادی ، وی پی این کی شرط رکھ اورویب سائٹس بندکردیں ۔عوام کوپہلے ہائی اسپیڈ پہنچائیں پھربھلے آپ وی پی این لگائیں۔ ہمیں آگےجاناہےتوآئی ٹی کےشعبےمیں چین اوربھارت جیسی سہولتیں دیناہوں گی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کاکہناتھاکہ ہماری نسل کے لیے انفرااسٹرکچر ڈیجیٹل، انٹرنیٹ اور اس کی اسپیڈہے لیکن ان کی سیاست موٹر وے سے شروع ہوکرمیٹروپرختم ہو جاتی ہے، موٹروے 1990 کی دہائی کا انفرا اسٹرکچر تھا۔
وفاقی حکومت کی پالیسیوں پرتنقیدکرتےہوئےبلاول نےکہاکہ چھوٹےصوبوں کےساتھ وفاق کارویہ اچھانہیں ۔ ہم نےحکومت سازی کیلئےن لیگ کوووٹ دیا،ہم نے طے کیا تھا کہ چاروں صوبوں کا ترقیاتی بجٹ مل کر بنائیں گے، ہم سے وعدہ کیا گیا کہ سندھ اور پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈنگ دی جائے گی۔ امید ہےہماری شکایات کو سنجیدہ اور مذاکرات کے ذریعے صوبوں کے خدشات کو دور کیا جائے گا۔
بلاول کا کہنا تھاکہ پاکستان میں کسی بھی حکومت سے کام نکالنابڑا مشکل ہوتا ہے لیکن مجھے بھی تھوڑا بہت تجربہ ہو گیا ہے،میں کام نکلواؤں گا۔
ایک سوال کے جواب میں پی پی چیئرمین نےکہا کہ میں نےبھی معاشی بہتری کےبارےمیں سناہے،یہ بات سچ ہےتواس کافائدہ عوام تک پہنچناچاہیے۔