Tuesday, 03 February 2026 | Web Desk
اسرائیلی فوج نے ایک غیرمعمولی فیصلے میں مسلمان خاتون میجر ایلا واویا(Ella Waweya)کو عربی زبان کی نئی فوجی ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق 36سالہ میجرایلاواویاآنےوالےچند ہفتوں میں کرنل اویخائی ادرعی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گی۔ میجرایلا واویاسوشل میڈیا پر “کیپٹن ایلا” کے نام سےمشہورہیں۔ ان کاشماراسرائیلی فوج کی صفِ اول کی مسلم عرب خاتون افسران میں ہوتاہے۔ انہیں اس عہدے پر ترقی دے کرلیفٹیننٹ کرنل کارینک دیاجائے گا۔
ایلاواویا وسطی اسرائیل کےعرب قصبے قلنسوہ میں پیدا ہوئیں اور 2013 میں رضاکارانہ طورپراسرائیلی فوج میں شمولیت اختیارکی۔ اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے لیکن اس کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد عرب شہریوں پر مشتمل ہے، جن میں مسلمان،عیسائی اوردروز شامل ہیں۔ اسرائیلی آئین کے تحت دروز اور چرکاسی برادری کےلیے فوج میں مقررہ مدت تک خدمات انجام دینا لازمی ہے۔
تاہم مسلمانوں اور عیسائی عربوں کے لیے فوج میں شمولیت رضاکارانہ ہے۔ حیران کن طورپرحالیہ برسوں میں عرب نوجوانوں خصوصاً خواتین کی اسرائیلی فوج میں رضاکارانہ شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
میجرایلاواویا کی تقرری کواسرائیلی فوج میں عرب شہریوں،خصوصاًمسلم خواتین،کی بڑھتی نمائندگی کےتناظرمیں ایک اہم پیش رفت کےطورپردیکھاجارہاہے۔