July 08, 2025 | Web Desk
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 سے ای کامرس پر نیا ٹیکس نظام نافذ کر دیا،کوریئر کمپنیاں اورعالمی ای کامرس پلیٹ فارمزپاکستان میں آن لائن کاروبارکےمستقبل کولےکرشدیدپریشان۔
نئے ٹیکس نظام کے تحت:
- آن لائن خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا، جیسا کہ عام دکانوں پر ہوتا ہے۔
- نان فائلرز یعنی ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والے صارفین اور پلیٹ فارمزکواس مدمیں اضافی ٹیکس بھرنا ہوگا۔
- کوریئر کمپنیاں اور آن لائن مارکیٹس صرف اُنہی آرڈرز کو پروسیس کر سکیں گی جو درست طریقے سے رجسٹرڈ کاروبار سےوابستہ ہوں۔
- بینکس اور آن لائن پیمنٹ کمپنیاں خریداروں کا مکمل ڈیٹا رکھیں گی اور ایف بی آر کو ہر3ماہ بعد رپورٹ جمع کرانا لازمی ہوگا۔
ایف بی آرکےمطابق نئےٹیکس سسٹم کامقصد:
- ای کامرس کاروباروں کی رجسٹریشن
- ٹیکس وصولی میں اضافہ
- خریداروں کو فراڈ سے بچاناہے
ایف بی آر نے فیس بک، گوگل، ایپل، نیٹ فلکس، علی ایکسپریس، اسپاٹی فائے سمیت کئی عالمی پلیٹ فارمز اورپاکستان کے دراز، او ایل ایکس، زمین، پاک وہیلز جیسے پلیٹ فارمز کی نشاندہی کی ہے جن کے ذریعےسالانہ 317 ارب روپے سےزائد کا لین دین ہوتاہے۔
پاکستان ای کامرس ایسوسی ایشن اور چین اسٹور ایسوسی ایشن نےحکومت کے ان اقدامات کوظالمانہ قراردیتےہوئےاحتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ان کےمطابق نئےٹیکسوں سےکاروباری سرگرمیوں کوجاری رکھنامشکل ہوجائےگا۔
پاکستان میں مائیکروسافٹ نےکام بندکردیا
آن لائن وینڈرزاور کورئیر کمپنیوں سےکہا جا رہا ہے کہ فوری طور پر ایف بی آر میں رجسٹریشن کروائیں ورنہ وہ کاروبار جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ تاہم اس حوالےسےواضح پالیسی اور قانونی تفصیلات نہ ہونے کے باعث بے یقینی کی فضا قائم ہے۔ امیدہےایف بی آرجلداس حوالےسےکوئی واضح پالیسی بیان جاری کرےگاتاکہ ای کامرس کےشعبےپرچھائےبےیقینی اورخوف کےبادل چھٹ سکیں۔