Thursday, 20 November 2025 | Web Desk
ملک میں بڑھتی ہوئی شمسی توانائی سےاٹھنےوالاایک سوال اکثرپوچھاجاتاہےکہ کیااس سےنیشنل گرڈپرتوکوئی منفی اثرنہیں پڑا؟ اس سوال کاخودحکومت نےجواب دیاہےکہ نہیں ۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے سی ای او ریحان اختر نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہاہے کہ شمسی پیداوارمیں اضافہ ہورہاہے،لیکن اس کا گرڈ پرکوئی نمایاں اثرنہیں پڑرہا۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت نے صارفین کو شمسی توانائی کی طرف منتقل ہونےپرمجبورکیا۔ وہ اب شمسی بجلی کی دستیابی کے باعث زیادہ استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کےباوجودنیشنل گرڈ سے ان کا انخلا تقریباً مستحکم ہے۔ وہ آج بھی اتنی ہی مقدار لے رہے ہیں جتنی پہلے لیتے تھے۔ تاہم انہوں نےاعتراف کیاکہ مستقبل کے بارےمیں پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔
یہ ریمارکس سی پی پی اے کی جانب سے حکومت کی پالیسی ہدایات کے تحت جنوری 2026 سے پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) کی ازسرِنو بنیادیں (ری بیسنگ) مقرر کرنے کی درخواست پرہونے والی عوامی سماعت کے دوران سامنے آئے۔
سی پی پی اے نے یکم جنوری 2026 سے ٹیرف میں ممکنہ ردوبدل کے بارے میں پانچ مختلف مفروضے پیش کیے۔ ان مفروضات میں مجموعی اوسط پی پی پی قیمت بہترین صورتِ حال میں 25.95 روپے فی یونٹ جبکہ کرنسی کی شدید قدرمیں کمی (روپیہ 300 سے 310فی ڈالر)کی بدترین صورت میں 26.53 روپے فی یونٹ تک بتائی گئی۔
مالی سال 26 کیلئے موجودہ پی پی پی 25.98 روپے فی یونٹ ہے جو عمومی استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے گرڈ میں شامل کی جانے والی بجلی 2023 کے 266 ملین یونٹس کے مقابلے میں 2024 میں 173 فیصد اضافے کے ساتھ 726 ملین یونٹس ہوگئی، حالانکہ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجموعی طلب میں صرف 1 فیصد اضافہ ہوا۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں کیوں پاکستان چھوڑرہی ہیں؟
نیپرا کو آگاہ کیا گیا کہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں عمومی طور پر مستحکم رہنے کی توقع ہے جبکہ بدترین صورت میں 5 فیصد اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ اسی طرح زرمبادلہ کے ذخائر میں موجود کمزوری کے پیش نظر ایک مفروضے میں مقامی کرنسی میں اگلے کیلنڈر سال کے پہلے چھ ماہ میں 10 روپے اور دوسرے چھ ماہ میں مزید 10 روپے کمی کا امکان ظاہر کیا گیا۔ سود کی شرح پہلے چھ ماہ کے لیے 11 فیصد اور دوسرے چھ ماہ کے لیے 10.5 فیصد بتائی گئی۔
صنعتی صارفین نے مہنگی توانائی کی قیمتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کی مصنوعات غیر مسابقتی ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعت اب بھی دیگر صارفین کو 131 ارب روپے کی کراس سبسڈی دے رہی ہے، اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ تمام ریلیف پہلے ہی ختم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پی پی اے کا طلب میں اضافے کا تخمینہ زمینی حقائق کے برعکس ہے، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں، صنعتوں کی بندش اور شمسی توانائی کی طرف تیزی سے رجحان کے باعث کھپت کم ہو رہی ہے۔