Tuesday, 18 November 2025 | Web Desk
پاکستان میں یورپی یونین کےنئے سفیررائمونڈس کاروبلس کاپاکستان کےحوالےسےاہم بیان ۔ کہتےہیں انسانی حقوق پرپیشرفت نہ ہوئی تو جی ایس پی پلس مراعات خطرے میں پڑسکتی ہیں۔
جیونیوز کو انٹرویو میں رائمونڈس کاروبلس کا کہنا تھا جبری گمشدگیاں جی ایس پی پلس مانیٹرنگ میں سرفہرست مسئلہ ہوں گی، پاکستان میں توہین مذہب کےبڑھتےکیسز تشویش ناک ہیں، جھوٹے مقدمات اور بلاسفیمی بزنس کا خاتمہ ہوناچاہیے۔ آزادی اظہاراورمیڈیاسپیس میں کمی ظاہرہورہی ہے۔
یورپی یونین کےسفیرنےمزیدکہاکہ پارلیمان اورحکومت کو تسلیم کرتے ہیں مگر اصلاحات بھی ضروری ہیں، آئینی ترمیم پاکستان کا داخلی معاملہ ہے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں کا اختیار ہے، سیاسی تنوع اور عدلیہ کی آزادی بنیادی اصول ہیں۔
انہوں نےکہاکہ کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستان کےتحفظات جائز ہیں، افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو یہ مطالبہ درست ہے، ترکیے کی ثالثی سے پاکستان افغانستان بات چیت جاری رکھی جائے۔
ان کا کہنا تھا یورپی یونین نے 2022 کے سیلاب کے بعد تقریباً 1 ارب یورو امداد فراہم کی، کلائمیٹ چینج پر تعاون آئندہ بھی اولین ترجیح رہےگا۔
جی ایس پی پلس سٹیٹس کیاہے؟
جی ایس پی پلس (GSP+) ایک خصوصی تجارتی اسکیما ہے جو یورپی یونین نے ترقی پذیر ممالک کو رعایتیں دینے کے لیے بنائی ہے۔ پاکستان کو یہ اسٹیٹس یکم جنوری 2014 سے ملا ہے۔ اس کی شرط یہ ہے کہ مستفید ممالک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ 27کنونشنز بشمول انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور گورنینس — کے نفاذ پر کام کریں۔
جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو یورپی یونین کی مارکیٹ میں 66 فیصد سے زیادہ ٹیریف لائنز پر ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی پر رسائی ملتی ہے۔ اس سہولت کی بدولت پاکستان کی یورپ کو برآمدات جہاں 2014 سے کافی تیزی سے بڑھی ہیں، وہاں بہت سی مصنوعات جیسے کہ ٹیکسٹائل، بیڈ لائنن، ہوزری، چمڑے، کھیلوں اور سرجیکل آلات یورپی منڈی میں زیادہ مسابقتی قیمت پر داخل ہو سکتی ہیں۔
افغان ٹرانزٹ ٹریڈبندہونےسےپاکستان کافائدہ
اس تجارتی مراعت نے پاکستان کی معیشت میں سرمایہ کاری اور برآمدی صنعت کی ترقی کو فروغ دیا ہے اور روزگار کے مواقع بھی بڑھائے ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے باقاعدہ مانیٹرنگ کی جاتی ہے، اور اسٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنی انسانی حقوق اور گورننس کی کارکردگی بہتر رکھنی ہوتی ہے۔
مختصراً، جی ایس پی پلس پاکستان کو یورپی یونین کی مارکیٹ تک سستی رسائی فراہم کرتا ہے اور برآمدی صنعت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔