Saturday, 4 October 2025 | Web Desk
وزیرا عظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی کے لیے 20 نکاتی امن منصوبے پر فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے مثبت جواب کاخیرمقدم کرتےہوئےکہا کہ الحمدللہ، فلسطین میں جنگ بندی کے قریب ہیں۔
اپنےپیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کےساتھ کھڑا رہا ہےاورکھڑا رہے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ اور برادر ممالک کے شکر گزار ہیں، فلسطین کے مسئلے کےحل کیلئے قطر،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، ترکیہ،اردن، مصراورانڈونیشیاکی کوششیں قابل تعریف ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نےکہا کہ حماس کے بیان سے جنگ بندی کی نئی راہ ہموار ہوئی ہے، پاکستان تمام برادر ممالک کے ساتھ مل کر امن کے لیے کام کرے گا، الحمدللہ، فلسطین میں جنگ بندی کے قریب ہیں۔
امریکی صدرکی دھمکی
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کرتے ہوئے حماس کو اتوار تک کا الٹی میٹم دیا تھا۔
حماس کی جانب سے امریکی صدر کے امن منصوبے کی کچھ شقوں پر مثبت ردعمل دیا گیا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر قبضے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششیں تیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہاں اپنےقارئین کی معلومات میں اضافےکیلئےیہ بتانابھی ضروری ہےکہ امریکی صدرنےغزہ جنگ بندی پلان کوتسلیم نہ کرنےپرحماس کوسنگین نتائج کی دھمکی دےرکھی ہے۔ انہوں نےکہاکہ حماس نےمنصوبہ تسلیم نہ کیاتووہ ہوگاجوپہلےکبھی نہیں ہوا، حماس کی قیادت کوڈھونڈڈھونڈکرماردیاجائےگا ۔
قطرپراسرائیلی کےحملےمیں پاکستان کاذکرکیسےآیا؟
حماس کےاعتراضات
امریکی منصوبےپراعتراض کرتےہوئےحماس نےاس میں اپنی تنظٰم کوغیرمسلح کرنےکی شق میں ترمیم اوراسرائیلی فوج کےفوری غزہ سےنکل جانےکامطالبہ کیاتھا۔ انہوں نےاس بات کی عالمی ضمانت بھی مانگی کہ حماس رہنماوں کوفلسطین یاپھردنیاکےکسی بھی ملک میں قتل نہیں کیاجائےگا۔