Sunday, 16 November 2025 | Web Desk
روس نےپاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی پیشکش کردی۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے پریس بریفنگ میں پاکستان اورافغانستان کواہم شراکت دارقراردیااورکہاکہ دونوں ملکوں کےدرمیان کشیدگی علاقائی استحکام اورسلامتی کیلئےٹھیک نہیں ۔
ماریازخارووانےکہاخطےمیں استحکام روس اورعالمی برادری کی ترجیح ہے،مصالحتی کوششوں سےپائیدارامن کویقینی بنایاجاسکتاہے۔ پاکستااورافغانستان تحمل کا مظاہرہ کریں، اختلافات بات چیت سے حل کریں، کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سےگریزکریں۔
روس سےپہلےایران بھی پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی و مصالحت کی پیشکش کرچکاہے۔
قطراورترکیہ کی ثالثی میں توپاکستان اورافغانستان کےدرمیان دوحہ اوراستنبول میں بات چیت کےکئی ادوارہوئےجوافغان طالبان کےتحریری یقین دہانی نہ کرانےکےباعث ڈیڈلاک کاشکارہوگئے۔
سکیورٹی ذرائع کےمطابق افغان طالبان دہشت گردی کےخلاف پاکستان کےموقف سےزبانی طورپراتفاق کرتےہیں لیکن تحریری طورپرکوئی یقین دہانی نہیں کراتے۔
افغان ٹرانزٹ ٹریڈبندہونےکافائدہ پاکستان کوہوگا
پاکستان کاافغان طالبان رجیم سےصرف یہی مطالبہ ہےکہ وہ اپنی زمین دہشت گردی کیلئےاستعمال ہونےسےروکے۔ پاکستان کےاس جائزاورصائب مطالبےپرافغان عبوری حکومت نےتاحال کوئی حوصلہ افزاجواب نہیں دیا۔
واضح رہےکہ واناکیڈٹ کالج پرہونےوالےحالیہ دہشت گردحملےمیں مارےگئےتمام خارجی افغان شہری تھےجوحملےکےدوران مسلسل افغانستان میں بیٹھےاپنےآقاوں سےہدایات لیتےرہے۔